امامت و جماعت

غیر شرعی داڑھی والے کا امامت کرانا- آٹھ رکعت تراویح پڑھنا -نمازِ تراویح میں قرآن دیکھ کر قرأت کرنا

فتوی نمبر :
23126
| تاریخ :
2014-07-14
عبادات / نماز / امامت و جماعت

غیر شرعی داڑھی والے کا امامت کرانا- آٹھ رکعت تراویح پڑھنا -نمازِ تراویح میں قرآن دیکھ کر قرأت کرنا

السلام علیکم !
۱۔ امامت غیر شرعی داڑھی کے ساتھ : یہاں (چائنا) میں کوئی بھی ایسا شخص نہیں ، جس کی داڑھی شریعت کے مطابق ہو ، اور امامت ہم میں سے ایک کو کرنی ہوتی ہے تو کیا ایسی صورت میں امامت کرنا جائز ہے؟
۲۔ نمازِ تراویح : یہاں پر ہر مسلک کے لوگ موجود ہیں اور نماز کوئی عرب طالبِ علم پڑھاتا ہے اور ان کے نزدیک تراویح آٹھ رکعت ہیں اور ہم بھی آٹھ ہی پڑھتے ہیں، تو کیا یہ ٹھیک ہے؟
۳۔ نماز وتر: ان کا نمازِ وتر کا طریقہ ہم سے بالکل مختلف ہے، ہم بھی انہیں کے ساتھ جماعت سے پڑھتے ہیں ، تو کیا ہمیں وتر دوبارہ پڑھنے چاہیۓ؟
۴۔ نمازِ عصر : نماز کا وقت جو مقرر ہے، اس میں نمازِ عصر مثلِ اول میں پڑھی جاتی ہے ،تو ایسے میں کیا نماز جماعت کے ساتھ پڑھی جائے یا مثلِ ثانی میں انفرادی پڑھی جائے؟
۵۔ قرآن سے دیکھ کر امامت کرنا : نمازِ تراویح میں امام صاحب تلاوت قرآن مجید دیکھ کر کرتے ہیں کیا ایسا کرنا جائز ہے؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

۱۔ غیر شرعی داڑھی والا شخص فاسق کہلاتا ہے ،اور ایسے شخص کی امامت مکروہ ہے، اس لۓ سائل اور اس کے دوستوں کو چاہیۓ کہ شرعی داڑھی کا اہتمام کریں، تا ہم جو نمازیں اس طرح ادا کی گئیں ، وہ ادا ہو گئیں ہیں، ان کا اعادہ لازم نہیں اور اگر تمام ہی لوگ اس گناہ کے مرتکب ہوں تو ان کی اقتداء ایک دوسرے کے پیچھے جائز ہے۔
۲۔واضح ہو کہ احادیث و آثارِ صحابہ کی روشنی میں باجماعِ صحابہ ، تراویح کی بیس رکعات ہیں اور اس پر تمام امت کا تعامل ہے، اس لۓ سائل اور اس کے دوستوں کو چاہیۓ کہ بیس رکعات تراویح ہی کا اہتمام کریں، تاہم اگر کوئی جماعت کرانے والا اس سنت کی خلاف ورزی کرتے ہوئے آٹھ رکعات پڑھا دے ،تو سائل اور اس کے دوسرے ساتھیوں کو چاہیۓ کہ باقی رکعات الگ سے پڑھنے کا اہتمام کریں۔
۳۔و ترکی جماعت میں اگر امام دو رکعت پر سلام پھیر تا ہو ، تو اس کی اقتداء میں نمازِ وتر پڑھنا درست نہیں، بلکہ الگ سے پڑھنے کا اہتمام کرے۔
۴۔ سائل اور اس کے دیگر حنفی ساتھیوں پر لازم ہے کہ نمازِ عصر کو مثلِ ثانی میں باجماعت پڑھنے کا اہتمام کریں ، اور نماز کا وقت یقینی طور پر داخل ہونے سے قبل نماز پڑھ کر اپنی نماز کو مشکوک نہ بنائے۔
۵۔ دورانِ نماز دیکھ کر قرآن پڑھنا عملِ کثیر ہے اور اس سے عند الاحناف رحمہم اللہ نماز فاسد ہو جاتی ہے، اس لۓ ایسے شخص کی اقتداء جائز نہیں اور جتنی فرض نمازیں اس طرح پڑھی گئیں، ان کا اعادہ لازم ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

في الدر المختار : ( و يكره) تنزيها (إمامة عبد) (إلی قول) (و فاسق وأعمى) . الخ و في الشامية : و أما الفاسق فقد عللوا كراهة تقديمه بأنه لا يهتم لأمر دينه اھ (۱/۵۶۰)۔
و في اعلاء السنن : عن عبد العزيز بن رفیع قال ، كان أبي بن كعب يصلى بالناس في رمضان بالمدينة عشرين ركعة و يوتر بثلاث اھ (۷/۶۱)۔
و في الدر المختار : (و صح الاقتداء فيه ) (الي قوله) (بشافعی) مثلا (لم يفصله بسلام ) لا إن فصله (على الأصح ) اھ(۲/۸)۔
و في الدر المختار : (و وقت الظهر من زواله) (الى قوله) ( إلى بلوغ الظل مثليه) و عنه مثله ، و هو قولهما و زفر و الائمة الثلاثة . قال الامام الطحاوي و به ناخذ اھ (۱/۳۵۹)۔
و في الدر المختار : (و) يفسدها (انتقاله من صلاة إلى مغايرتها) (إلی قوله) (و قراءته من مصحف) اھ (1/ 623)۔
و فی الفتاوى الهندية : و يفسدها قراءته من مصحف عند أبي حنيفة - رحمه الله تعالى - (1/ 101)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
اسد اللہ قدیر عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 23126کی تصدیق کریں
0     468
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات