امامت و جماعت

وقت بچانے کے لۓمسجد کی جماعت کو چھوڑ کر اپنے کمرے میں جماعت کرنا

فتوی نمبر :
23048
| تاریخ :
0000-00-00
عبادات / نماز / امامت و جماعت

وقت بچانے کے لۓمسجد کی جماعت کو چھوڑ کر اپنے کمرے میں جماعت کرنا

ہماری بلڈنگ میں ایک چھوٹی مسجد ہے، آس پاس نزدیک کوئی جامع مسجد نہیں، ہم اپنے کمرے میں جماعت کروا سکتے ہیں؟ ہم چھ لوگ ہیں یا ہم کو بلڈنگ والوں کی طرف سے جو مسجد بنی ہوئی ہے، وہاں جاکے ہی نماز پڑھنی چاہیۓ؟ اور ہم سب کو کوئی مجبوری بھی نہیں کہ ہم وہاں نہ جا سکیں ، بس یہ ہے کہ کمرے میں پڑھنے سے وقت بچ جائے گا اور جلدی سے تھوڑا سو کر پھر ڈیوٹی چلے جائینگے۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

محض اپنی سہولت اور وقت بچانے کے لۓ مسجد اور مسجد کی جماعت کو ترک کرنا گناہ اور بڑی محرومی ہے، اس لۓ سائل اور اس کے کمرے کے ساتھیوں کو چاہیۓ کہ بلڈنگ کی مسجد میں جا کر نماز باجماعت پڑھنے کا اہتمام کریں۔

مأخَذُ الفَتوی

في الفتاوى الهندية : و إن صلى بجماعة في البيت اختلف فيه المشايخ و الصحيح أن للجماعة في البيت فضيلة و للجماعة في المسجد فضيلة أخرى فإذا صلى في البيت بجماعة فقد حاز فضيلة أدائها بالجماعة و ترك الفضيلة الأخرى ، هكذا قاله القاضي الإمام أبو علي النسفي، و الصحيح أن أداءها بالجماعة في المسجد أفضل و كذلك في المكتوبات اھ (1/ 116)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 23048کی تصدیق کریں
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات