میں ایک کمپنی میں ملازم ہوں مجھے کام کے سلسلے میں دوسرے شہروں کے سفر کرنے ہوتے ہیں کمپنی مجھے سفری خرچ کے لئے رقم ادا کرتی ہے اور سفر میں خرچ کی ایک حد مقرر کرتی ہے جو کہ بہت زیادہ ہوتی ہے میں سفر میں اخراجات کو کنٹرول کرتا ہوں اور پیسہ بچا لیتا ہوں کافی رقم جو بچ جاتی ہے اس میں سے کچھ خود رکھ لیتا ہوں باقی کمپنی کو واپس کر دیتا ہوں، اس طرح دونوں کا فائدہ ہو جاتا ہے، میں بچت کی گئی رقم کو سفری اخراجات ظاہر کرتا ہوں کیا یہ رقم میرے لئے جائز ہے ؟
کمپنی کی طرف سے اگر سفری اخراجات متعین ہوں اور اس سے کم و بیش ہونے کی صورت میں کوئی حساب کتاب نہ لیا جاتا ہو اور نہ ہی کمپنی کی طرف سے واپسی کا کسی قسم مطالبہ ہو تو اس صورت میں سائل اگر کفایت شعاری کی وجہ سے جو رقم بچاتا ہو تو وہ اس کی ملک ہے اور وہ جس طرح چاہے اس میں تصرف کر سکتا ہے ۔
کما فی تفسير ابن كثير: وقوله تعالى: إلا أن تكون تجارة عن تراض منكم قرئ تجارة بالرفع وبالنصب وهو استثناء منقطع، كأنه يقول: لا تتعاطوا الأسباب المحرمة في اكتساب الأموال، ولكن المتاجر المشروعة التي تكون عن تراض من البائع والمشتري فافعلوها وتسببوا بها في تحصيل الأموال اھ (2/ 235)
و في مشكاة المصابيح: وعن أبي حرة الرقاشي عن عمه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «ألا تظلموا ألا لا يحل مال امرئ إلا بطيب نفس منه» . رواه البيهقي في شعب الإيمان والدارقطني في المجتبى اھ (2/ 889)
ائمہ مساجد کا میڈیا ذرائع کی بنیاد پر حکومت کے خلاف بیان دینا غیبت ہے یا تہمت؟-سرکاری ملازم کی چھٹیوں کے احکام
یونیکوڈ ملازمت 0محلہ والوں کا امام صاحب کے ساتھ کنٹریکٹ کرنا اور معاہدہ مکمل ہونے کے بعد اس کو بلا عذر نکالنے کا حکم
یونیکوڈ ملازمت 0تنخواہ کی رقم سے کچھ پیسے کاٹنا اور ملازمت ختم ہونے کے بعد پینشن کے طور پر لے کر استعمال کرنا
یونیکوڈ ملازمت 0