السلام علیکم! مفتی صاحب! جہاں تک میرا علم ہے، جنازہ کی کم از کم تین صف ہونی چاہیے، اس کے بعد ۵ یعنی طاق ہو، مگر چند دن پہلے ہمارے گاؤں میں جنازے کے وقت جب صف کی تیاری ہو رہی تھی تو میں نے ہی آواز لگائی کے ۵ صف بنالیں، کیونکہ اس وقت ۴ صفیں تھیں، مگر وہاں کے ایک حافظ صاحب بولے کہ یہ ضروری نہیں، آپ سے گزارش ہے کہ قرآن وسنت کی روشنی میں اصل مسئلہ کو حوالہ دے کر ممنون فرمائیں۔
اس کے علاوہ عرض ہے کہ اگر میں آپ کے ادارہ کو چندہ دینا چاہوں تو کیا طریقہ ہے؟ شکریہ!
جنازہ کی صفوں میں بہتر اور مستحب طریقہ ہے کہ وہ طاق عدد میں (یعنی تین پانچ یا سات) ہوں،لیکن اگر کہیں جفت عدد میں صفیں بنائی گئی تب بھی جنازہ درست ہی ہو جائے گا، بلا وجہ اس میں الجھنے کی ضرورت نہیں۔
چندہ کے سلسلہ میں براہِ راست ادارہ میں آکر یا ادارہ کے نمبر پر رابطہ کیا جا سکتا ہے۔
ففی حاشية ابن عابدين: ويستحب أن يصف ثلاثة صفوف، حتى لو كانوا سبعة يتقدم أحدهم للإمامة، ويقف وراءه ثلاثة ثم اثنان ثم واحد اھ (2/ 214)