کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرح متین مسئلہ ذیل میں کہ:
زید حافظ قرآن ہے اور مسجد میں تراویح کی نماز پڑھاتا ہے، زید کی ڈاڑھی ابھی ایک مشت نہیں آئی ہے،اور اس نے حجام کے پاس داڑھی بناتے وقت اس کو سیٹ (set) کرنے کے لیے الجھے ہوئے معمولی بال کٹوالیے، جس پر کچھ لوگوں نے اعتراض کیا تو زید نے توبہ کر لی، اور داڑھی کو آئندہ نہ کٹوانے کا عہد کیا،تواب پوچھنا یہ ہے کہ:
۱۔ کیا زید تراویح کی نماز پڑھا سکتا ہے ؟ اور زید کے پیچھے تراویح کی نماز ہوگی؟
۲۔ ڈاڑھی کی ایک مشت حد کہاں سے شروع ہوتی ہے؟ لہٰذا ان تمام سوالوں کے جوابات مع کتب کے حوالے سے دیکر عند اللہ ما جور ہوں۔
محض دو چار بال جو اُٹھے ہوئے ہیں، اُن کے سائیڈوں کو برابر کر لینےمیں حرج نہیں ، مگر اس حد تک اس کو برابر کر لینا کہ فاسق فاجر لوگوں جیسی خشخشی داڑھی ہو جائے، باتفاق ائمہ اربعہ رحمہم اللہ جائز نہیں، ایسے شخص کو اپنے اختیار سے تراویح میں بھی امام بنانا جائز نہیں، جب تک تو بہ کے بعد اس کی داڑھی صلحاء جیسی نہ ہو جائے ، لہٰذا مذکور شخص کو مقامی علماء کے سامنے پیش کر کے ان ہی سے فیصلہ کرا لیا جائے، تو بہتر ہے۔