امامت و جماعت

ائمۂ حرمین شریفین کی اقتداء میں نماز پڑھنے سے منع کرنا

فتوی نمبر :
2242
| تاریخ :
2006-03-15
عبادات / نماز / امامت و جماعت

ائمۂ حرمین شریفین کی اقتداء میں نماز پڑھنے سے منع کرنا

محترم جناب مفتی صاحب! السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ!
کیا اہلِ سنت حضرات کے لۓ مسجدِ نبویﷺ اور خانہ کعبہ کے اندر باجماعت نماز ادا کرنا اور وہاں کے ائمہ کرام کی اقتداء میں جائز نہیں ہے؟ اس لۓ پوچھ رہا ہوں کہ ہمارے امام صاحب نے کہا کہ سعودیہ والے ’’بدمذہب‘‘ ہیں، لہٰذا جماعت چھوڑ کر ، انفرادی نماز ادا کرنا ہی بہتر ہے ، اُمید ہے کہ جلد از جلد جواب ارسال فرمائیں گے۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

مسجدِ نبویﷺ اور مسجد الحرام کے ائمہ کرام بلاشبہ اہلِ سنت و الجماعت سے ہیں اور ان کی اقتداء میں باجماعت نماز ادا کرنا بلاشبہ جائز اور درست ہے، اور ان کے ساتھ جماعت میں شریک ہونا انفرادی نماز ادا کرنے سے افضل ہے ، ان مقدس اور بابرکت مقامات میں بھی جماعت سے پیچھے رہنا بہت بڑی سعادت سے محرومی اور بدبختی کی علامت ہے، لہٰذا سائل کے امامِ موصوف کو اپنی اس ناجائز حرکت اور مسلمانوں میں اختلاف و انتشار پھیلانے سے احتراز لازم ہے ، البتہ حرمین کے ائمہ چونکہ حنبلی المسلک ہیں ، نمازِ وتر دو سلاموں سے پڑھتے ہیں، اس لۓ حنفی المسلک افراد کو رمضان المبارک کے دوران ان کی اقتداء میں وتر پڑھنے سے احتراز چاہیۓ ۔

مأخَذُ الفَتوی

فی حاشية ابن عابدين : و أما الاقتداء بالمخالف في الفروع كالشافعي فيجوز ما لم يعلم منه ما يفسد الصلاة على اعتقاد المقتدي عليه الإجماع اھ (1/ 563)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 2242کی تصدیق کریں
1     687
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات