السلام علیکم! کیا ایسے امام کے پیچھے نماز ہو جاتی ہے جو بلو پرنٹ فلم دیکھتا ہو اور اس کے دیکھنے کے ثبوت بھی ہوں اور غیر عورتوں کے ساتھ فون پر واہیات (سیکس) کی باتیں بھی کرتا ہو۔
سائل کا بیان اگر واقعۃ درست اور مبنی برحقیقت ہو تو مذکور افعال کا مرتکب شخص فاسق وفاجر ہے، اور جب تک وہ ان افعال سے بصدقِ دل توبہ واستغفار کر کے باز نہ آئے، تب تک اس کی اقتداء میں نماز پڑھنا مکروہ ہے، اس لیے مذکور امام کو چاہیے کہ اپنے اس منصب کا خیال رکھے اور ایسے خلاف شرع کاموں سے اجتناب کرے، تاکہ لوگوں کی نمازیں درست ادا ہو سکیں۔
ففی مشكاة المصابيح: وعن عبد الله بن مسعود قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «التائب من الذنب كمن لا ذنب له» . رواه ابن ماجه والبيهقي في شعب الإيمان اھ (2/ 730)
وفی الدر المختار: (ويكره) تنزيها (إمامة عبد) (إلی قوله) (وأعرابي) (إلی قوله) (وفاسق وأعمى) اھ (1/ 559)
وفی حاشية ابن عابدين: (قوله ويكره تنزيها إلخ) لقوله في الأصل: إمامة غيرهم أحب إلي بحر عن المجتبى والمعراج، ثم قال: فيكره لهم التقدم؛ ويكره الاقتداء بهم تنزيها اھ (1/ 559)