ایک مسئلہ ہے جو بچپن سے میرے ساتھ ہے وہ یہ ہے کہ الٹے ہاتھ سے لکھنا، کھانا، اور کھیلنا، والدین کی اور میری اپنی کوشش کے باوجود مجھ سے یہ بری عادت نہیں چھوٹ سکی ۔
ازراہ کرم وضاحت کریں کہ شریعت کی رو سے اس کا کیا حکم ہے؟ کیا یہ قابل معافی جرم ہے اور یہ میری بخش میں روکاوٹ تو نہیں بنے گی؟
الٹے ہاتھ سے کھانا پینا اور لکھنا خلاف سنت وادب ہے، لہذا سائل کو چاہیے کہ سیدھے ہاتھ سے کھانے پینے کی عادت بنائے اور اگر تھوڑی سی توجہ ہو تو یہ عادت اب بھی اپنائی جاسکتی ہے، تاہم اگر سیدھے ہاتھ سے لکھنے میں دشواری ہو، تو بمجبوری میں الٹے ہاتھ سے لکھنے کی بھی گنجائش ہے، مگر کوشش کر کے کھانا پینا سیدھے ہاتھ ہی سے کرلیا جائے۔
کما فی سنن النسائی: أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدٌ قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ: أَخْبَرَنِي الْأَشْعَثُ قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا وَذَكَرَتْ: «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُحِبُّ التَّيَامُنَ مَا اسْتَطَاعَ فِي طُهُورِهِ وَنَعْلِهِ وَتَرَجُّلِهِ» قَالَ شُعْبَةُ: ثُمَّ سَمِعْتُ الْأَشْعَثَ بِوَاسِطَ يَقُولُ: يُحِبُّ التَّيَامُنَ، فَذَكَرَ شَأْنَهُ كُلَّهُ، ثُمَّ سَمِعْتُهُ بِالْكُوفَةِ يَقُولُ: يُحِبُّ التَّيَامُنَ مَا اسْتَطَاعَ (1/78 رقم الحدیث 112)۔