کیا فرماتے ہیں علماء کرام ومفتیان عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میں اپنے چار بیٹوں اور شوہر کے ساتھ سعودی عرب میں رہتی تھی، میرا بڑا بیٹا ایک کمپنی میں ملازم تھا، ۱۹۸۴ء میں، میرے بڑے بیٹے کا ایکسیڈنٹ ہو گیا اور اس کا انتقال ہوگیا،اس کی کمپنی والوں کا اصول تھا کہ تنخواہ کی رقم سے کچھ پیسہ کاٹتے تھے، اور کمپنی اس بات پر حکومتی نظام کی وجہ سے مجبور تھی ، اور جب ملازم کی مدت ملازمت یا عمر کی حدپوری ہو جاتی ،تو اس کو ماہانہ رقم جاری کر دی جاتی ہے، جس کو حکومت والے ’’و المؤسسة العامة للتامينات الاجتماعية‘‘ کے نام سے موسوم کرتے ہیں۔
سوال یہ ہے کہ اس ملنے والی رقم سے میں حج و عمرہ ادا کر سکتی ہوں یا نہیں ؟ مہربانی فرما کر جواب دیگر ممنون فرمائیں!
تنخواہ کا کوئی جزو جبری طور پر کاٹ لینا یا خود اس طرح کٹوا دینا اور پھر یک مشت یا تھوڑا تھوڑا وصول کر لینا جائز ہے، شرعاً انشورنس یا سود نہیں، بلکہ تنخواہ ہی کا ایک حصہ ہے، اسی طرح کمپنی والے ملازمت ختم ہونے پر جو رقم ہر ملازم کو پینشن کے طور پر دیتی ہے، وہ بھی شرعا جائز اور کمپنی کی طرف سے تبرع ہے، اس سے حج و عمرہ کرنا اور اپنے استعمال میں لانا سب جائز ہے، اگرچہ حکومت اسے کوئی بھی نام دیدے۔ واللہ اعلم!
ائمہ مساجد کا میڈیا ذرائع کی بنیاد پر حکومت کے خلاف بیان دینا غیبت ہے یا تہمت؟-سرکاری ملازم کی چھٹیوں کے احکام
یونیکوڈ ملازمت 0محلہ والوں کا امام صاحب کے ساتھ کنٹریکٹ کرنا اور معاہدہ مکمل ہونے کے بعد اس کو بلا عذر نکالنے کا حکم
یونیکوڈ ملازمت 0تنخواہ کی رقم سے کچھ پیسے کاٹنا اور ملازمت ختم ہونے کے بعد پینشن کے طور پر لے کر استعمال کرنا
یونیکوڈ ملازمت 0