السلام علیکم ! محترم مفتی صاحب! میں اعلیٰ تعلیم کے سلسلے میں چائنا میں رہتا ہوں، یہاں پر کافی سارے پاکستانی طالب علم رہائش پذیر ہیں جن میں سات حفاظ کرام بھی ہیں، الحمد للہ ہم باجماعت نماز ادا کرتے ہیں۔
۱۔ میرا سوال یہ ہے کہ امامت کے لیے کم داڑھی والے حافظ قرآن کو آگے کرنا چاہیے یا اس غیر حافظ کوجو پوری داڑھی والا ہو؟
۲۔ مذکور غیر حافظ اگر امامت کے لیے تیار نہ ہو تو کیا ہم اس حافظ کے پیچھے نماز پڑھ سکتے ہیں جس کی داڑھی کم ہے؟
عموماً ہم ایسے حافظ قرآن کی اقتداء میں نماز پڑھتے ہیں جس کی تقریباً داڑھی نہیں ہے۔ براہِ کرم مذکور سوالات کے جوابات اور مزید جو امام کے متعلق معلوم ہونا چاہیے وہ بھی قرآن و سنت کی روشنی میں ارسال فرمائیں۔
امام ایسا ہونا چاہیے جو صحیح العقیدہ مسلمان اور نماز کے ضروری مسائل سے واقف ہونے کے علاوہ متقی پرہیزگار ہو اور مذکور حافظ چونکہ داڑھی حدِ شرعی سے چھوٹی کرانے کی وجہ سے فاسق ہے، اس لیے مذکور غیر حافظ اگر مسائلِ نماز سے واقف ہو تو اسے امام بنانا زیادہ بہتر ہے، البتہ مذکور حافظ صاحب کی داڑھی پیدائشی طور پر ہی ایک مشت سے چھوٹی ہو، وہ داڑھی کترواتا نہ ہو تو ایسی صورت میں اس کی اقتداء میں نماز پڑھنا بلاشبہ درست ہے۔
ففی الدر المختار: تطويل اللحية إذا كانت بقدر المسنون وهو القبضة (إلی قوله) وأما الأخذ منها وهي دون ذلك كما يفعله بعض المغاربة، ومخنثة الرجال فلم يبحه أحد الخ (2/ 417،418)
وفیه أیضاً: (والأحق بالإمامة) تقديما بل نصبا مجمع الأنهر (الأعلم بأحكام الصلاة) فقط صحة وفسادا بشرط اجتنابه للفواحش الظاهرة، وحفظه قدر فرض، وقيل واجب، وقيل سنة (ثم الأحسن تلاوة) وتجويدا (للقراءة، ثم الأورع) أي الأكثر اتقاء للشبهات. والتقوى: اتقاء المحرمات (ثم الأسن) أي الأقدم إسلاما، فيقدم شاب على شيخ أسلم، وقالوا: يقدم الأقدم ورعا. (1/ 557)
و فی المدخل إلى السنن الكبرى للبيهقي: عن أبي مسعود الأنصاري قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «يؤم القوم أقرأهم لكتاب الله عز وجل , فإن كانوا في القراءة سواء فأعلمهم بالسنة , فإن كانوا في السنة سواء فأقدمهم هجرة , فإن كانوا في الهجرة سواء فأكبرهم سنا اھ(ص: 118)
وفی اعلاء السنن: عن أبی أمامة رضی اللہ عنه مرفوعاً ’’إن سرکم أن تقبل صلاتكم فلیؤمکم خیارکم اھ (۴/۲۰۰) والله أعلم بالصواب!