مفتی صاحب! میں امام ہوں میرا سوال یہ ہے کہ دورانِ امامت جہری نماز میں قراءت میں بھول ہوئی، چھوٹی بھول یا بڑی بھول، اگرمقتدی کوئی لقمہ بھی نہ دیں نامکمل ہوجائے، سجدۂ سہو کرنا کافی ہے؟
واجب کی مقدار قراءت پڑھنے کے بعدغلطی ہوجائے تو امام کو چاہئیے کہ رکوع کرکے اپنی نماز مکمل کرلے اور اس صورت میں سجدۂ سہو بھی لازم نہیں اور اگراتنی مقدار نہ کی ہو تو امام کو چاہیئے کہ دوسری جگہ سے قراءت کرے، ورنہ قرأت ادھوری چھوڑنے کی وجہ سے نماز کا اعادہ لازم ہوگا ۔
کما فی الفتاوى الهندية: ولا يجب السجود إلا بترك واجب أو تأخيره أو تأخير ركن أو تقديمه أو تكراره أو تغيير واجب بأن يجهر فيما يخافت وفي الحقيقة وجوبه بشيء واحد وهو ترك الواجب، كذا في الكافي. (1/ 126)
وفي الشامية: (تتمة]يكره أن يفتح من ساعته كما يكره للإمام أن يلجئه إليه، بل ينتقل إلى آية أخرى لا يلزم من وصلها ما يفسد الصلاة أو إلى سورة أخرى أو يركع إذا قرأ قدر الفرض كما جزم به الزيلعي وغيره۔(1/623)۔
سجدہ سہو لازم ہونے کی صورت میں بھول کر سلام پھیرنا اور یاد آنے پر فوراً سجدہ کرلینا
یونیکوڈ سجدہ سھو 1ایک رکعت کا رہا ہوا سجدہ, دوسری رکعت کے سجدوں کے ساتھ قضا کرتے ہوئے تین سجدے کرنا
یونیکوڈ سجدہ سھو 0اکیلے نمازی کا قعدۂ اولی میں ، اور مسبوق کا قعدۂ اخیرہ میں درود شریف پڑھ لینے کا حکم
یونیکوڈ سجدہ سھو 2فرض نماز کی آخری رکعتوں میں فاتحہ کے بعد سورت ملانےاور قعدہ اولیٰ میں درود شریف پڑھنے سے سجدہ سہو لازم ہوگا ؟
یونیکوڈ سجدہ سھو 0