جناب میرا سوال یہ ہے کہ میرے پاس کچھ پیسے ہیں، دوکان کی ایڈوانس کی رقم ہے، تقریباً چار لاکھ کے قریب ہیں، میں نے سوچا کہ اس کو بینک اسلامی ، یا میزان بینک کے اسلامی شریعت کے اکاؤنٹ میں ڈال دوں، تو اُس سے آنے والے پیسے حلال ہونگے؟ اگر حلال ہیں ،تو اس پر جو شرائط ہیں ،اس کی وضاحت چاہتا ہوں ،اور اگر شرائط سخت ہیں، تو مشورہ چاہئیے ۔
ان بینکوں سے متعلق اگر چہ اہلِ علم کی آراء مختلف ہیں، مگر ہماری معلومات کے مطابق ان بینکوں کے فکسڈ ڈیپازٹ میں " مضاربہ و مشارکہ اور مرابحہ شرعیہ‘‘ کی بنیادوں پر ٹرانزیکیشن ہوتی ہے ،جس کی بناء پر ان بینکوں میں اکاؤنٹ کھلوانے کی اجازت ہے ،اور ان کے سیونگ اکاؤنٹ سے حاصل ہونے والے منافع استعمال کرنے کی بھی اجازت ہے،تاہم سائل نے جن شرائط کا تذکرہ کیا ہے، اگر ان کی صراحت لکھ کر بھیج دی جائے تو اس پر مکرر غور ہو سکتا ہے۔
گاڑی خریدنے کےلئے بینک سے سودی قرض لینا-نمازِ جمعہ کا طریقہ اور اس کو چھوڑنے والے کاحکم
یونیکوڈ مروجہ بینکاری 0