جب مفتی صاحب! ایک دن کچھ دوستوں نے مجھے جماعت کے لیے آگے کر دیا، ظہر کی نماز میں، میں نے آخری رکعت میں سورۃ فاتحہ کے بعد سورت پڑھ لی، اور سجدہ سہو بھی نہیں کیا اور سلام پھیر دیا، اب میرے لیے کیا حکم ہے؟ کیا نماز دوبارہ لوٹانی پڑےگی یا نہیں؟ اور جن لوگوں نے میرے پیچھے نماز پڑھی ہے، اُن کو بھی لوٹانی پڑےگی؟
فرض کی تیسری اور چوتھی رکعت میں سورۃ فاتحہ کے بعد سورت ملانے سے سجدہ سہو واجب نہیں ہوتا، لہٰذا سائل اور اس کی اقتداء میں پڑھنے والے نمازیوں کی نماز درست ادا ہو چکی ہے، اعادہ کی ضرورت نہیں۔
ففی الدر المختار: وهل يكره في الأخريين؟ المختار لا اھ (1/ 459)
وفی حاشية ابن عابدين: (قوله المختار لا) أي لا يكره تحريما بل تنزيها لأنه خلاف السنة. قال في المنية وشرحها: فإن ضم السورة إلى الفاتحة ساهيا يجب عليه سجدتا السهو في قول أبي يوسف لتأخير الركوع عن محله وفي أظهر الروايات لا يجب لأن القراءة فيهما مشروعة من غير تقدير، والاقتصار على الفاتحة مسنون لا واجب. اهـ (1/ 459)
سجدہ سہو لازم ہونے کی صورت میں بھول کر سلام پھیرنا اور یاد آنے پر فوراً سجدہ کرلینا
یونیکوڈ سجدہ سھو 1ایک رکعت کا رہا ہوا سجدہ, دوسری رکعت کے سجدوں کے ساتھ قضا کرتے ہوئے تین سجدے کرنا
یونیکوڈ سجدہ سھو 0اکیلے نمازی کا قعدۂ اولی میں ، اور مسبوق کا قعدۂ اخیرہ میں درود شریف پڑھ لینے کا حکم
یونیکوڈ سجدہ سھو 2فرض نماز کی آخری رکعتوں میں فاتحہ کے بعد سورت ملانےاور قعدہ اولیٰ میں درود شریف پڑھنے سے سجدہ سہو لازم ہوگا ؟
یونیکوڈ سجدہ سھو 0