میرا سوال یہ ہے کہ کیا نماز تراویح میں حافظ صاحب کے پیچھے سامع ضروری ہے قرآن و سنت کے روشنی میں اس کا جواب دے، کیا صحابہ کرام کے زمانہ میں سامع ہوتا تھا ؟
عرف میں سامع ایسے سننے والے کو کہتے ہیں جو غلطی کی صورت میں امام کو لقمہ دے سکے، اگر مقتدیوں میں کوئی ایسا آدمی موجود ہو جو یہ کام انجام دے تو اس کے لیے مستقل سامع مقرر کرنا شرعا کوئی ضروری نہیں۔