محترم جناب مفتی صاحب ! السلام علیکم!
بنک کے ذریعہ کار خریدنا چاہتا ہوں ، کیا یہ شرعاً جائز ہے ؟ اس لیے کہ ان کے ہاں سودی اور انشورنس کا طریقہ کار ہوا کرتا ہے ۔
اگر بینک اولاً خود گاڑی خرید کر اپنے قبضہ میں کر لے اور اپنی مرضی سے ہی انشورنس کرائے اور اس کے بعد قسطوں کی صورت میں گاہک پر بیچ دے اس طور پر کہ گاہک کے سا تھ پہلی مجلس میں ہی نقد یا ادھار کا معاملہ طے ہو جائے اور کل قسطیں اور ہر قسط کی مالیت بھی طے ہو جائے اور نیز کسی قسط کی تاخیر کی وجہ سے کوئی جرمانہ و غیرہ بھی نہ کیا جائے تو اس طرح کی بینک یا دوسرے ادارے سے گاڑی خریدنا شرعاً بھی جائز اور درست ہے۔
و في المبسوط للسرخسي: وإذا عقد العقد على أنه إلى أجل كذا بكذا وبالنقد بكذا أو قال إلى شهر بكذا أو إلى شهرين بكذا فهو فاسد لأنه لم يعاطه على ثمن معلوم ولنهي النبي صلى الله عليه وسلم عن شرطين في بيع وهذا هو تفسير الشرطين في بيع ومطلق النهي يوجب الفساد في العقود الشرعية وهذا إذا افترقا على هذا فإن كان يتراضيان بينهما ولم يتفرقا حتى قاطعه على ثمن معلوم وأتما العقد عليه فهو جائز لأنهما ما افترقا إلا بعد تمام شرط صحة العقد. (13/ 13)
گاڑی خریدنے کےلئے بینک سے سودی قرض لینا-نمازِ جمعہ کا طریقہ اور اس کو چھوڑنے والے کاحکم
یونیکوڈ مروجہ بینکاری 0