محترم جناب مفتی صاحب! ہم ہر ہفتہ ایک ساتھی کے مکان میں جمع ہو کر ذکرِ الٰہی میں مشغول ہوتے ہیں اور اس میں ہم ۲۰ سے اوپر افراد جمع ہوتے ہیں ، مغرب و عشاء اسی مکان پر باجماعت ادا کرتے ہیں ، اگر ہم نماز کے لۓ مسجد جائیں ، تو ہماری تمام کاروائی کے اندر خلل واقع ہونے کا امکان ہے ، کیا ہمیں اپنی نمازیں مذکور گھر میں باجماعت ادا کرنے کی اجازت ہے ؟
سوال میں مذکور عذر ایسا شرعی عذر نہیں کہ اس کی وجہ سے مسجد کی نماز باجماعت کو ترک کر دیا جائے ، بلکہ ایسے احباب کو بہ نسبت دوسروں کے ، زیادہ اہتمام ہونا چاہیۓ ، لہٰذا سائل اور اس کے دیگر ساتھیوں پر لازم ہے کہ مذکور نمازوں کو بھی مسجد جا کر باجماعت ادا کرنے کا اہتمام کریں۔
فی مشكاة المصابيح : عن عبد الله بن مسعود قال : لقد رأيتنا و ما يتخلف عن الصلاة إلا منافق قد علم نفاقه أو مريض إن كان المريض ليمشي بين رجلين حتى يأتي الصلاة و قال إن رسول الله صلى الله عليه و سلم علمنا سنن الهدى و إن من سنن الهدى الصلاة في المسجد الذي يؤذن فيه رواه مسلم اھ (1/ 336)۔
و فی حاشية ابن عابدين : (قوله في مسجد أو غيره) قال في القنية : و اختلف العلماء في إقامتها في البيت و الأصح أنها كإقامتها في المسجد إلا في الأفضلية . اھ(1/ 554)۔
و فیها أیضا : و اعترض الشرنبلالي بأن هذا ينافي وجوب الجماعة . و أجاب ح بأن الوجوب عند عدم الحرج ، و في تتبعها في الأماكن القاصية حرج لا يخفى اھ (1/ 555)۔