مفتی صاحب آپ کی رائے چاہیے، میرے پاس کچھ ڈالرز ہیں، جن کو کسی بینک میں محفوظ کرانا چاہتا ہوں، لیکن مجھے پتہ نہیں کہ اس دور میں کو ن سا بینک شریعت کے مطابق چل رہا ہے، میں نے بہت لوگوں سے سنا ہے کہ میران بینک کے معاملات شریعت کے مطابق ہیں، لیکن اس کے بارے میں علماء کا اختلاف رائے ہے ، اب کس کا یقین کیا جائے کہ کون ٹھیک کہہ رہا ہے، اور کون غلط ؟ میزان بینک میں ڈالرز کا صرف سیونگ اکاؤنٹ کھل سکتا ہے؟ جس پر وہ منافع دیتے ہیں، ان کا دعوی ہے کہ یہ منافع حلال ہے جس کو مفتی تقی عثمانی صاحب کی نگرانی میں اجازت ملی ہے۔ ان کا یہ دعوی ہوتا ہے کہ جو یہ اکاؤنٹ کھولتا ہے تو وہ رب المال ہوتا ہے، اور بینک اس رقم کا مضارب ہوتا ہے، اور مینجر اس رقم کو اجارہ ، ہوم لون، اور دوسرے کئی پروڈکٹ کی مد میں دیتے ہیں جس پر منافع آنا ہوتا ہے اور ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس پر فائدے اور نقصان کا ذمہ دار بھی رب المال ہی ہوتا ہے۔ آپ حضرات کی خدمت اقدس میں عرض ہے کہ میری رہنمائی کیجیے تا کہ میں اللہ کی ناراضگی سے بچ جاؤں ۔
۲: ڈالرز کی قدر روپے کے مقابلے میں اوپر ہی جاتی ہے جس کے بارے میں یہ سنا ہے کہ ڈالر اور روپے دو علیحدہ جنس ہیں ۔ اگر ڈالر کے مقابلے میں روپے زیادہ مل جائیں تو وہ حرام نہیں، آپ کی کیا رائے ہیں؟
۳: پرائز بانڈ پہ جو انعام ملتا ہے وہ حلال ہے یا حرام؟
1:ہماری معلومات کے مطابق پاکستان میں میزان بینک اور بینک اسلامی والوں نے جو نظام متعارف کروایا ہے، اگر چہ وہ علماء کے نزدیک مختلف فیہ ہے، اور ان میں بعض عملی خامیاں ہیں، مگر مجموعی طور پر وہ شرعی اصولوں کے مطابق ہے ، لہذا سائل اگر خود یا کسی دوسرے معتمد شخص کے ذریعے بے غبار طریقہ سے نفع نہ کما سکتا ہو تو پھر ان بینکوں کے سیونگ اکاؤنٹ میں رقم رکھوانے اور ان سے حاصل ہونے والے نفع کو اپنے استعمال میں لانے کی اجازت ہے۔
۲: مختلف ممالک کی کرنسیاں مختلف جنس ہیں، ان کا آپس میں کمی بیشی کے ساتھ اور ادھار معاملہ شرعاً بھی جائز ہے ، مگر کسی ایک یعنی بائع اور مشتری کی جانب سے مجلس میں رقم اپنے قبضہ میں لینا ضروری ہے، جبکہ کرنسی ملکیت میں نہ ہونے کے باوجود فروخت کرنا شرعاً غیر مملوک کی بیع ہونے کی وجہ سے جائز نہیں، اس سے احتراز لازم ہے۔
۳: پرائز بانڈ کی رقم در حقیقت حکومت پر قرض ہوتی ہے اور اس پر جو نفع دیا جاتا ہے وہ سود ہوتا ہے اس لیے اس سے احتراز لازم ہے۔
كما في التكملة: وعليه فلا يجوز مبادلة الاوراق النقدية بجنسها متفاضلاً ويجوز اذا كانت متماثلة والمماثلت ههنا ايضا تكون بالقيمة لا بالعدد كما في الفلوس (الي قوله ) وأما العملة الاجنبية من الاوراق فهى جنس آخر فيجوز مبادلتها بالتفاضل (۱/ ۵۹۰)
وفيها ايضا : يشترط قبض أحد البدلين فى المجلس لئلا يكون افتراق عن دين بدین اھ (۱/ ۵۸۹)۔
وفي البحر: ولا يجوز قرض جر نفعاً اھ (۶/ ۱۲۲)
و في الدر المختار: و في الأشباه كل قرض جر نفعا حرام اھ (5/ 166)
و في حاشية ابن عابدين (رد المحتار): (قوله كل قرض جر نفعا حرام) أي إذا كان مشروطا كما علم مما نقله عن البحر اھ (5/ 166) والله تعالى أعلم