امامت و جماعت

بہراشخص کو امام بنانا- وضو میں چہرے کے حدود اور داڑھی میں خلال کرنا

فتوی نمبر :
1784
| تاریخ :
2005-12-31
عبادات / نماز / امامت و جماعت

بہراشخص کو امام بنانا- وضو میں چہرے کے حدود اور داڑھی میں خلال کرنا

۱۔ ایک شخص سن نہیں سکتا، دوسرا شخص لواطت کا موجب ہے (میل ٹو میل سیکس کا)، دونوں میں سے امامت کے لیے کس کو آگے کیا جائے؟
۲۔ وضو میں منہ کہاں تک دھونا ضروری ہے، تھوڑی تک یا گردن تک؟اگر داڑھی ہو تو وضو میں اس کا سنت وظیفہ کیا ہے ؟
۳۔ سردیوں میں جسم کی کسی حصے پر جیسا کہ کہنی پر پانی ڈالا جائے تو پانی اس جگہ کو گیلا کیے بنا نیچے آجاتی ہے اور وہ جگہ خشک نظر آتی ہے، ایسی صورت میں کیا شرعی حکم ہے؟آیا ویسے نماز پڑھی لی جائے یا اُسے پھر سے دھویا جائے؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

۱۔ واضح ہو کہ مستحق امامت وہ شخص ہے جو متقی وپرہیزگار اور مسائل سے خوب واقف ہو، کسی فاسق وفاجر کو اپنے اختیار سے امام بنانا مکروہ تحریمی ہے، لہٰذا اگر کسی مقام پر مذکور دو افراد ہی موجود ہوں اور مذکور فعل بد کے عادی شخص نے اپنے فعل سے توبہ بھی نہ کی ہو تو ایسی صورت میں بہرا امامت کا زیادہ مستحق ہے بشرطیکہ وہ قرأت وغیرہ پر بھی قادر ہو۔
۲۔ وضو میں چہرہ کو لمبائی میں پیشانی کے بالوں سے لیکر ٹھوڑی کے نیچے تک دھونا فرض ہے، جبکہ گردن کا دھونا ثابت نہیں اور اگر چہرہ پر داڑھی اتنی ہلکی اور خفیف ہو کہ اس کے نیچے کی جلد بھی دکھائی دے تو اس جلد تک پانی پہنچانا بھی واجب ہے اور اگر داڑھی اتنی گھنی ہو کہ اس کے ماتحت جلد نظر نہ آتی ہو تو ایسی صورت میں جس قدر بال چہرے کے حدود میں ہوں، ان کا دھونا واجب اور جو بال چہرے کی حدود سے متجاوز اور لٹکے ہوئے ہوں، ان کا خلال اور مسح کرنا سنت ہے۔
۳۔ واضح ہو کہ وضو میں اعضاء مغسولہ کے ہر ہر حصہ تک پانی پہنچانا فرض ہے، اگر بال برابر حصہ بھی خشک رہ گیا تو وضو نامکمل رہےگا اور ایسی حالت میں پڑھی گئی تمام نمازوں کا اعادہ واجب ہے، لہٰذا سائل کے لیے مستحب یہ ہے کہ وہ اعضاء وضو پر محض پانی بہانے پر اکتفاء نہ کرے، بلکہ پانی بہانے کے بعد انہیں اچھی طرح ملے بھی تاکہ بال برابر حصہ بھی خشک نہ رہے اور اس کے بعد نماز ادا کرے۔

مأخَذُ الفَتوی

ففی الدر: ولو أم قومًا وھم له کارھون (إلی قوله) کرہ له ذلك تحریما (إلی قوله) والکراھة علیھم اھ (۱/ ۵۵۹)
وفی الدر المختار: وهو من مبدإ سطح جبهته إلى أسفل ذقنه طولاوما بين شحمتي الأذنين عرضا اھ (1/ 96)
وفیه أیضاً: (وغسل جميع اللحية فرض) يعني عمليا (أيضا) على المذهب الصحيح المفتى به المرجوع إليه، (إلی قوله) ثم لا خلاف أن المسترسل لا يجب غسله ولا مسحه بل يسن، وأن الخفيفة التي ترى بشرتها يجب غسل ما تحتها كذا في النهر اھ (1/ 100)
وفی الرد: أما المستورة فساقط غسلها للحرج اھ (1/ 101)
وفی الفقه الإسلامي وأدلته: عموم البشرة بالماء الطهور: أي أن يعم الماء جميع أجزاء العضو المغسول، بحيث لا يبقى منه شيء، إلا وقد غسل، لكي يغمر الماء جميع أجزاء البشرة، حتى لو بقي مقدار مغرز إبرة لم يصبه الماء من المفروض غسله، لم يصح الوضوء اھ (1/ 391)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
اجمل شاکر عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 1784کی تصدیق کریں
0     527
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات