امامت و جماعت

غیر مقلد اور چھوٹی داڑھی والے کے پیچھے نماز کا حکم

فتوی نمبر :
17776
| تاریخ :
2020-10-26
عبادات / نماز / امامت و جماعت

غیر مقلد اور چھوٹی داڑھی والے کے پیچھے نماز کا حکم

میں یہاں دبئی میں جاب کرتا ہوں میں نے پڑھا تھا ۔کہ غیر مقلد کے پیچھے نماز نہیں ہوتی ۔دوسرا یہ کہ یہاں تقریباًسارے مولوی صاحبان بالکل چھوٹی داڑھی والے ہیں۔تو کیا غیر مقلد اور چھوٹی داڑھی والے کے پیچھے نماز پڑھنا جائز ہے ؟براہ مہربانی جواب سے مطلع فرمائیں ۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

1۔ چونکہ موجودہ دور کے اہل حدیث کہلانے والے غیر مقلد ین حضرات عموماً مواضعِ اختلاف میں دوسرے مذاہب خصوصاً مذہب حنفی کی رعایت کی بجائے عمداً اس کے خلاف کا اہتمام کرتے ہیں ۔ تقلید کو شرک اور سلف و صالحین پر سب وشتم کرنے اور اجماع اُمت وقیاسِ شرعی سے انکار کو اپنا فریضہ سمجھتے ہیں ۔
اگر مذکور لامذہبوں کا بھی یہی حال ہو تو ان کی اقتداء میں نماز پڑھنے کے بجائے کسی دوسرے صحیح العقیدہ امام کی اقتداء میں نماز پڑھنے کی کو شش کرنی چاہیے ۔اور اگر غیر مقلد متشدد اور غالی نہ ہو اور مواضع ِ خلاف میں مقتدیوں کا لحاظ رکھتا ہو تو اس کے پیچھے نماز پڑھنے کی گنجائش ہے۔
2۔ باجماع اُمت داڑھی منڈانا حرام ہے اور ایک قبضہ یعنی مشت سے کم ہونے کی صورت میں کتروانا بھی حرام ہے۔ اور جو شخص داڑھی مذکور مقدار سے چھوٹی کرے وہ شرعاً فاسق ہے ۔اور اس کی اقتداء میں نماز پڑھنا مکروہ تحریمی ہے۔ لہٰذا ایسے شخص کو اپنے اختیار سے امام بنا جائز نہیں ۔تاہم اگر کو ئی دوسرا متقی پرہیز گار امام میسر نہ ہو اور بامری مجبوری ایسے فاسق کے پیچھے نماز پڑھی جائے تو جماعت کا ثواب ملے گا اگر چہ پرہیزگار جیسا ثواب نہ ہو ۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
عطاء الرحمن حنیف عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 17776کی تصدیق کریں
0     1977
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات