مفتی صاحب ہم ایک گور نمنٹ کے ادارے میں ملازمت کرتے ہیں، جس کا ٹائم صبح ۹ تا شام 5 بجے تک ہے، ہمارا کام کمپیوٹر پرلوگوں کی شکایت درج کرنا ہے ،اس کام کے لئے 2 کمپیوٹر ہیں ،اس کام کے لئے 5 افراد کی ڈیوٹی لگائی گئی ہے، حالانکہ کام اتنا نہیں ہے ؟ اس لئے ہم نے آپس میں اس طرح طے کر لیا ہے کہ 3 افراد صبح سے نماز ظہر تک ڈیوٹی کرتے ہیں اور وہ گھر چلے جاتے ہیں اور 2 فراد بعد ظہر تا 5 بجے تک ڈیوٹی کرتے ہیں ،اس کے علاوہ بھی اس 4 گھنٹے کی ڈیوٹی میں بھی مختلف اپنے ذاتی کاموں کا بتا کر ڈیوٹی سے چلے جاتے ہیں ،مفتی صاحب قرآن و حدیث کی روشنی میں بتائیں کہ ہمارا اس طرح کی ڈیوٹی کرنا کیا حرام روزی کے زمرے میں آتا ہے یا نہیں ؟ ہماری اس طرح کی ڈیوٹی کرنا افسرانِ بالا کے علم میں ہے اور ہمارے ڈائریکٹر صاحب اس سسٹم سے ناخوش ہیں مگر کام میں کوئی رکاوٹ نہیں ہوتی، اس لئے وہ کوئی ایکشن نہیں لیتے ، جواب کے لئے ملتمس ہیں۔ شکریہ
جب حکومت کی طرف سے اس کی اجازت نہیں اور متعلقہ ڈائریکٹر بھی اس سے ناخوش ہیں تو مذکور طرز عمل بھی شرعاً جائز نہیں اس لئے یا تو مجاز افسران سے باضابطہ اجازت لیکر اس ترتیب پر عمل کریں یا پھر سب ساتھی بیک وقت کام اور ڈیوٹی اوقات میں اپنی موجودگی کو یقینی بنائیں۔
قال الله تعالی: {إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُكُمْ أَنْ تُؤَدُّوا الْأَمَانَاتِ إِلَى أَهْلِهَا } [النساء: 58]
و في مشكاة المصابيح: وعنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «أد الأمانة إلى من ائتمنك ولا تخن من خانك» . رواه الترمذي وأبو داود والدارمي اھ (2/ 885)
و في الفتاوى الهندية: والأجير الخاص من يستحق الأجر بتسليم نفسه وبمضي المدة ولا يشترط العمل في حقه لاستحقاق الأجر اھ (4/ 500)
ائمہ مساجد کا میڈیا ذرائع کی بنیاد پر حکومت کے خلاف بیان دینا غیبت ہے یا تہمت؟-سرکاری ملازم کی چھٹیوں کے احکام
یونیکوڈ ملازمت 0محلہ والوں کا امام صاحب کے ساتھ کنٹریکٹ کرنا اور معاہدہ مکمل ہونے کے بعد اس کو بلا عذر نکالنے کا حکم
یونیکوڈ ملازمت 0تنخواہ کی رقم سے کچھ پیسے کاٹنا اور ملازمت ختم ہونے کے بعد پینشن کے طور پر لے کر استعمال کرنا
یونیکوڈ ملازمت 0