امامت و جماعت

مسبوق کا امام کے ساتھ سلام پھیرنےکی صورت میں اس کی نماز کا حکم

فتوی نمبر :
15824
| تاریخ :
2012-06-27
عبادات / نماز / امامت و جماعت

مسبوق کا امام کے ساتھ سلام پھیرنےکی صورت میں اس کی نماز کا حکم

اگر کوئی مسبوق امام کے ساتھ سلام پھیرلے تو کیااس کی نماز فاسد نہیں ہوگی؟ اور یاد آنے پر دوبارہ کھڑا ہوگا ؟ یا ویسے ہی اکیلی نماز میں اِدھراُدھر دیکھ لے تو اس کی نماز فاسد نہیں ہوتی ؟ اگروہ سجدۂ سہو والی سلام امام کے ساتھ قصداً پھیرلے تو نماز فاسد ہوجاتی ہے اس کی کیا وجہ ہے؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

بظاہر سائل نے مسبوق کی امام کیساتھ سلام پھیرنے کی جو دو صورتیں بیان کی ہیں اور پھر پہلی صورت میں مطلقاً (سہواْ یاعمداً) نماز نہ ٹوٹنے کا تاثر دیا ہے حالانکہ ایسا نہیں بلکہ ان تمام صورتوں میں سہواً اور قصداً سلام پھیرنے سےحکم میں تبدیلی ہوتی ہے خواہ وہ اکیلے نماز پڑھ رہا ہو یا جماعت کیساتھ , جس صورت میں اسے اپنی نماز باقی ہونا یاد ہو اور وہ سلام پھیر دے تو نماز فاسد شمار ہوگی ورنہ سجدۂ سہو کرکے اپنی نماز پوری کرے ۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی الدر المختار وحاشية ابن عابدين: (والمسبوق يسجد مع إمامه مطلقا) (قوله والمسبوق يسجد مع إمامه) قيد بالسجود لأنه لا يتابعه في السلام، بل يسجد معه ويتشهد فإذا سلم الإمام قام إلى القضاء، فإن سلم فإن كان عامدا فسدت وإلا لا، ولا سجود عليه إن سلم سهوا قبل الإمام أو معه؛ وإن سلم بعده لزمه لكونه منفردا حينئذ بحر، وأراد بالمعية المقارنة وهو نادر الوقوع كما في شرح المنية. وفيه: ولو سلم على ظن أن عليه أن يسلم فهو سلام عمد يمنع البناء.(2/82)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 15824کی تصدیق کریں
0     811
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات