امامت و جماعت

بغیر وضو کے نماز پڑھائی, تو اب ایک عرصہ گزرنے کے بعد کیا کرے

فتوی نمبر :
15404
| تاریخ :
2012-05-23
عبادات / نماز / امامت و جماعت

بغیر وضو کے نماز پڑھائی, تو اب ایک عرصہ گزرنے کے بعد کیا کرے

ایک مرتبہ بطورِ امام کے نماز پڑھائی ایک شخص نے جو ریح کا مریض تھا , تو اس نے بغیر وضو کے نماز پوری کی ، شرم کی وجہ سے وہ لوگوں کو نہیں بتا سکا ، اب وہ توبہ کرنا چاہتا ہے، کیا لوگوں کو بتائے بغیر توبہ ہوسکتی ہے ؟ کیونکہ لوگوں میں سے کسی کو بھی معلوم نہیں۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

اس سلسلے میں صرف توبہ و استغفار کر لینا کافی نہیں، بلکہ شخصِ مذکور پر لازم ہے کہ وہ ان لوگوں کو جنہوں نے اس کی اقتداء میں مذکور نماز ادا کی ہے، حتی الوسع اعادۂ نماز کی اطلاع بھی کرے۔

مأخَذُ الفَتوی

فی الدر المختار : (كما يلزم الإمام إخبار القوم إذا أمهم و هو محدث أو جنب) أو فاقد شرط أو ركن . (1/ 591)-

واللہ تعالی اعلم بالصواب
بہادر علی سرور عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 15404کی تصدیق کریں
1     764
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات