اگر کوئی شخص نماز کے دوران امام کے پیچھے قرآن کھو ل کر امام کی قرأت کو سُنے تو اس کا کیا حکم ہے؟ اس طرح اگر کسی شخص کو لمبی سورت یاد نہ ہو اور اس کو نماز میں پڑھنا چاہے تو کیا وہ اس کو پڑھنے کے لئے قرآن کھول سکتا ہے؟
نمازی خواہ منفرد ہو یا امام اور مقتدی , اس کے لئے نماز کے دوران قرآن کھول کر اس سے پڑھنا یا سننا اور اوراق کو پلٹنا عملِ کثیر ہونے کی وجہ سے فسادِ نماز کا سبب ہے , اس لئے اس سے احتراز لازم ہے۔
فی الفتاوى الهندية : و يفسدها قراءته من مصحف عند أبي حنيفة - رحمه الله تعالى - و قال : لا يفسد له إن حمل المصحف و تقليب الأوراق و النظر فيه عمل كثير و للصلاة عنه بد ، و على هذا لو كان موضوعا بين يديه على رحل و هو لا يحمل و لا يقلب أو قرأ المكتوب في المحراب لا تفسد ، و لأن التلقن من المصحف تعلم ليس من أعمال الصلاة و هذا يوجب التسوية بين المحمول و غيره فتفسد بكل حال و هو الصحيح . هكذا في الكافي . (1/ 101)-