باسمہ تعالی!محترمی جناب مفتی صاحب مد ظلہ! عافاکم اللہ تعالیٰ فی الدارین، السلام علیکم در حمۃ او برکاتہ!
۱: حضرت میں میزان بینک میں اکاؤنٹ کھلوانا چاہتا ہوں، سنا ہے کہ وہ حضرت اقدس مفتی تقی عثمانی صاحب کے زیر نگرانی کام کرتا ہے ،اور اسلامی بینک ہے ،سود سے پاک بینک ہے۔
(۲) :حضرت میں نے سنا ہے کہ میزان بینک میں کوئی پیسے رکھوائے ،اور اس پر جو ماہانہ نفع ملتا ہے، وہ سود نہیں ،
کیا فرماتے علماء دین اس کے بارے میں کہ سنا ہے کہ حضرت اقدس مفتی تقی عثمانی صاحب دامت بر کاتہم نے کچھ اصول میزان بینک والوں کو بتائے تھے کہ اس طرح سے سود سے بچا جا سکتا ہے، لیکن میزان بینک والے اب ان اصولوں کے خلاف کام کر رہے ہیں کیا یہ درست ہے؟
(۴): کسی اور بینک میں سیونگ اکاؤنٹ کے بارے میں تو علماءِ کرام فرماتے ہیں کہ سود ہے ،لیکن کرنٹ اکاؤنٹ کے بارے میں کیا فرماتے ہیں، اس لئے کہ اگر کوئی کرنٹ اکاؤنٹ میں رقم رکھے ،اور اس پر نفع نہ لے، پھر بھی بینک والے یہ رقم سود کے کاموں میں استعمال کرتے ہیں ،جو کہ بینک والوں کے ساتھ سود میں تعاون ہو گیا -
کیا فرماتے ہیں ہمارے علماءِ حق اس مسئلے کے بارے میں کہ میزان بینک والے منسلک شدہ فتوی دکھاتے ہیں کیا منسلکہ باتیں صحیح ہیں؟ کیا پرافٹ لینا درست ہے؟
(۶) :کسی نے مفتیان کرام کا متفقہ فیصلے والا فتوی بتایا ہے کہ اسلامی بینک بھی سود ہی کہ زمرے میں آتے ہیں، ( فتوی کی کاپی منسلک ہے)،
(۷) :کیا میزان بینک والا فتوی اور منسلک شدہ علماء کا متفقہ فیصلہ (فتوی) کے بعد علماءِ کرام نے مل کر کوئی فیصلہ کیا ہے یعنی کوئی فتوی ہے۔ تکلیف کی معذرت چاہتا ہوں۔
مذکور بینکوں سے حاصل ہونے والے منافع کا حکم علماء کے درمیان بدستور مختلف فیہ ہے، اس لئے حتی الامکان اس میں سرمایہ کاری سے اجتناب احوط ہے، اور چونکہ ان کا فارمولہ بعض متدین اور مستند علماء کی طرف سے دیا ہوا اور دیانتداری پر مبنی ہے، لہذا کوئی شخص اگر ان علماء پر اعتماد کرتے ہوئے اس بینک کے ذریعہ سرمایہ کاری کرلے ،تو اسے سود خور بھی نہیں کہا جا سکتا۔
گاڑی خریدنے کےلئے بینک سے سودی قرض لینا-نمازِ جمعہ کا طریقہ اور اس کو چھوڑنے والے کاحکم
یونیکوڈ مروجہ بینکاری 0