امامت و جماعت

مصلی پر اذان دے کر مجبوری کی بناء پر مسجد میں نماز پڑھنا

فتوی نمبر :
13413
| تاریخ :
2011-09-15
عبادات / نماز / امامت و جماعت

مصلی پر اذان دے کر مجبوری کی بناء پر مسجد میں نماز پڑھنا

میں اور میرا یک دوست ہم نے آفس کے مصلیٰ پر اذان دی اور انتظار کرنے لگے کہ کچھ لوگ آ جائیں خاص طور پر کوئی شخص جو امامت کرے (ہمارے آفس کے مصلیٰ پر عام طور پر قریب سے کھچ باشرع دیندار لوگ آکر نماز پڑھا دیتے ہیں)، لیکن اس دن کوئی بھی نہیں آیا، پھر ہم نے سوچا کہ قریب مسجد میں نماز پڑھ لیں، لیکن کیونکہ اذان دے چکے تھے، اس لیے سمجھ نہیں آیا کہ اذان دینے کے بعد یہاں پر نماز لازم ہے یا نہیں؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

اذان دینے کے بعد بہتر یہ ہے کہ وہیں نماز ادا کی جائے اور اگر مسائلِ نماز سے واقف اور باشرع شخص موجو د نہ ہو ، تو بصورتِ مجبوری قریب کی مسجد میں بھی نماز کے لیے جا سکتے ہیں۔

مأخَذُ الفَتوی

ففی الدر المختار: (كما لو جعل وسط داره مسجدا وأذن للصلاة فيه) حيث لا يكون مسجدا إلا إذا شرط الطريق زيلعي اھ(4/ 358)
وفی حاشية ابن عابدين: (قوله: وأذن للصلاة) اللام للتعليل لا صلة أذن، والأوضح وأذن للناس بالصلاة فيه اھ (4/ 358) واللہ اعلم

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد اویس شریف عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 13413کی تصدیق کریں
0     602
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات