1: کیا میزان بینک سے حاصل ہونے والے منافع کو عدالتی اخراجات مثلا ًوکیلوں کو اپنے جائز حق کے لئے دینا جائز ہے ؟
۲: میزان بینک سے حاصل ہونے والا منافع سود سے پاک ہے؟ اور اس منافع کی رقم کو کھانے پینے اور باقی چیزوں کیلئے استعمال کر سکتا ہوں ؟
ہماری معلومات کے مطابق پاکستان میں میزان بینک والوں نے جو نظام متعارف کرایا ہے، اگر چہ اس کے جائز ہونے میں علماءِ عصر کا اختلاف ہے، اور اس میں بعض علمی خامیاں بھی ہیں، مگر مجموعی طور پر وہ شرعی اصولوں کے موافق ہے، اس لئے اس سے حاصل ہونے والے نفع کو مذکور کاموں میں استعمال کرنے کی گنجائش ہے۔
گاڑی خریدنے کےلئے بینک سے سودی قرض لینا-نمازِ جمعہ کا طریقہ اور اس کو چھوڑنے والے کاحکم
یونیکوڈ مروجہ بینکاری 0