جناب معلوم یہ کرنا ہے کہ میں نے کچھ جمع کی ہوئی ، رقم بینک الفلاح میں ڈیپازٹ کرائی ہے، جس پر مجھے ماہانہ منافع ملتا ہے، یہ بتاتا چلو کہ اس منافع کا ریٹ فکس نہیں ہے، مطلب کبھی ۹ فیصد، کبھی ۹.۵ فیصد کبھی ۸فیصد آیا یہ منافع میرے لیے جائز ہے یا نہیں؟ یہ سود کے زمرے میں تو نہیں آتا؟ بینک انتظامیہ کے مطابق یہ شرعی بورڈ سے منظور شدہ ہے اور سود نہیں۔
بینک الفلاح کے بارے میں ہمیں مکمل معلومات نہیں، اس لیے سلسلے میں دوسرے مفتیانِ کرام سے رجوع کیا جائے تو بہتر ہے۔واللہ أعلم بالصواب!
گاڑی خریدنے کےلئے بینک سے سودی قرض لینا-نمازِ جمعہ کا طریقہ اور اس کو چھوڑنے والے کاحکم
یونیکوڈ مروجہ بینکاری 0