میرے ماموں ایک سول انجینئر مشیر ہیں جو موبائل کے ٹاور مختلف موبائل کمپنیوں کے لیے نقشے بناتا ہے، ایک کمپنی جس کا نام (Ericsen) ہے جو وارد کمپنی کا ٹھیکیدار ہے ، اس نے زید ملازم کو اسی کے گھر پر موبائل ٹاور بنانے کی اجازت دیدی ، زید ملازم کے پاس اپنی کوئی جائیداد نہیں تھی تو اس نے میرے ماموں سے کہا کہ اس موبائل ٹاور کو اپنے بھتیجے کے گھر کے اوپر بنا لو ( جب مجھے یہ بات معلوم ہوئی کہ میرے گھر پر موبائل ٹاور بن جائیگا تو میں نے اسی کام کے لیے گھر خریدا) اس شرط پر کہ ٹاور کی پہلی قسط کا نصف کرا یہ مجھے (یعنی ملازم) کو ادا کیا جائیگا چنانچہ میں نے اس کو ایک لاکھ روپے دیے، اب میری والدہ یہ جاننا چاہتی ہے کہ ہمارا یہ عمل جائز تھا؟ اگر نہیں تو ہمیں کیا کرنا چاہیے اور آیا اس کا کوئی کفارہ ہو گا ؟ کل رقم میں سے ہمارے لئے کتنا حلال ہے جو ہم رکھ سکے اور بقایا رقم سے جو کہ حلال نہیں ہے کہ ساتھ کیا کرنا چاہیے؟ کیا ہم اس کو اپنے غریب رشتہ داروں کو بغیر ثواب کی نیت سے دے سکتے ہیں ؟
جب گھر سائل کا ذاتی مملوک ہے تو اس کا مذکور عمل بلاشبہ جائز اور درست ہے اور اس سے حاصل ہونے والی آمدنی بھی حلال ہے۔
كما في تنوير الابصار : تصح اجارة حانوت ودار بلا بيان ما يعمل فيها ومن يسكنها وله ان يعمل فيهما كل ما اراد اھ (۶/ ۲۷، ۲۸)
و في الفتاوى الهندية: عقد الإجارة يصح العقد على مدة معلومة أي مدة كانت قصرت المدة كاليوم ونحوه أو طالت كالسنين كذا في المضمرات اھ (4/ 415)
و في الدر المختار: (وللمؤجر طلب الأجر للدار والأرض) كل يوم (وللدابة كل مرحلة) إذا أطلقه، ولو بين تعين اھ (6/ 14)
ائمہ مساجد کا میڈیا ذرائع کی بنیاد پر حکومت کے خلاف بیان دینا غیبت ہے یا تہمت؟-سرکاری ملازم کی چھٹیوں کے احکام
یونیکوڈ ملازمت 0محلہ والوں کا امام صاحب کے ساتھ کنٹریکٹ کرنا اور معاہدہ مکمل ہونے کے بعد اس کو بلا عذر نکالنے کا حکم
یونیکوڈ ملازمت 0تنخواہ کی رقم سے کچھ پیسے کاٹنا اور ملازمت ختم ہونے کے بعد پینشن کے طور پر لے کر استعمال کرنا
یونیکوڈ ملازمت 0