کیا طاہر القادری ایک اچھا عالم ہے؟ کیا ہم ان کی کتابیں، تفاسیر پڑھ سکتے ہیں؟ دوسرا سوال یہ ہے کہ میرے والد نے مجھے شریعہ پڑھنے کی اور عالم بننے کی اجازت دی ہے۔ میں علماء دیوبند اور تبلیغی جماعت سے بہت محبت کرتاہوں، کیا میں علم کے لیے شام یا جامعہ اظہر جاسکتاہوں؟ یا پھر کسی دیوبندی مدرسہ میں داخلہ لوں، آپ کی کیا رائے ہے؟
طاہر القادری صاحب بریلوی مسلک سے تعلق رکھتے ہیں، بریلوی حضرات کے متعلق علماءِ دیوبند کا جو فتویٰ ہے، وہ طاہر القادری کے متعلق بھی ہے، اس لیے ان کی کتب اور تفاسیر پڑھنے سے عام عوام کو احتراز لازم ہے، تاہم ان کی ایسی کتب جس میں عقائد وغیرہ سے بحث نہ ہو، پڑھنے میں حرج نہیں، البتہ بہتر یہ ہے کہ علماءِ حق کی کتب معلوم کرکے ان کا مطالعہ کیا جائے تو زیادہ مفید ثابت ہوگا۔
جامعہ ازہر اور شام وغیرہ میں چونکہ چارو مذاہب کی تعلیم ہوتی ہے، اس لیے اگر سائل کو وسعت ہو تو ضرور وہاں جاکر تعلیم حاصل کرے اور اگر وہ پاکستان میں رہ کر علمِ دین حاصل کرنا چاہتا ہو تو پھر اپنے علاقہ کے تبلیغی مرکز کے ساتھ منسلک مدرسہ میں داخلہ لے لے، ان شاء اللہ اس کے حق میں مفید ثابت ہوگا۔ واللہ اعلم بالصواب!