السلام علیکم! میرا سوال یہ ہے کہ لفظ ’’مولیٰ‘‘ کے کیا معنی ہیں اور کیا اللہ پاک کے علاوہ کسی نبی یا صحابی کو مولیٰ کہا جاسکتاہے؟
میرا دوسرا سوال بھی پہلے سوال کے ضمن میں ہے کہ کچھ علماء حضرات سیدنا علیؓ کو ’’مولیٰ‘‘ یا ’’مولائے کائنات‘‘ کہتے ہیں اور باقاعدہ حدیث کا حوالہ دیتے ہیں کہ ’’جس کا میں مولیٰ اس کا علی مولیٰ‘‘ اور حضرات شیخینؓ نے بھی حضرت علیؓ کو مولیٰ کہاہے اس مذکورہ بالاحدیث کی روشنی میں تو کیا حضرت علی المرتضیٰؓ کو ’’مولیٰ‘‘ یا ’’مشکل کشا‘‘ کہنا درست ہے یا نہیں؟ مہربانی فرماکر قرآن وسنت کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں۔ والسلام!
واضح ہوکہ ’’مولیٰ‘‘ عربی زبان کا لفظ ہے، لغوی اعتبار سے لفظِ ’’مولیٰ‘‘ بمعنی رب، مددگار،، آقا، سردار، رہنما، غلام اور نوکر وغیرہ اور کئی مختلف متضاد معانی میں مستعمل ہے، جو ہر عبارت میں سیاق وسباق اور متعلقہ شخصیت کی حیثیت کے اعتبار سے موقع ومحل کی مناسبت سے متعین ہوتے ہیں، چنانچہ سورۃ بقرۃ کی آخری آیت میں (أنت مولانا) میں اللہ تعالیٰ کیلیے بمعنی کار ساز یا متولی امور کیلیے مستعمل ہے اور احادیثِ مبارکہ میں مثلاً: صحیح بخاری (ج:۱ ص: ۵۲۸) میں نبی کریمﷺ نے حضرت زیدؓ کے بارے میں فرمایا ’’أنت أخونا ومولانا‘‘ اور حضرت علیؓ کے بارے میں بھی ایک صحیح حدیث میں منقول ہے کہ ان کے پاس ایک جماعت آئی اور کہنے لگی ’’السلام علیك یا مولانا‘‘ (مرقاۃ: ج ۱۰ ص۴۷۶) ان مواقع میں سے پہلے میں آزاد کردہ غلام اور دوسرے میں سردار اور بڑے کے معنی میں ہے اور علماء کیلیے عموماً احترام کے طور پر بڑے اور سردار کے معنیٰ میں استعمال ہوتاہے۔
لہٰذا حضرت علیؓ یا دوسرے کسی شخص مثلاً: علماء کرام کو ’’مولیٰ‘‘ کہنا تو بلاشبہ جائز اور درست ہے اور اس معنیٰ میں کسی کو ’’مولائے کائنات‘‘ کہنے میں بھی حرج نہیں، مگر حضرت علیؓ کو مافوق الاسباب ’’مشکل کُشا‘‘ کہنا اور ان جیسے الفاظ پکارنا اس عقیدے اور نظریے کی بنا پر ہوکہ وہ ہماری ہر مشکل کو آسان کرنے والے ہیں اور ہر جگہ حاضر وناظر بھی ہیں، تب تو یہ کھلا ہوا شرکیہ عقیدہ ہے، جوکہ واجب الاحتراز ہے۔
ففي صحیح الامام البخاري: باب مناقب زید بن حارثة مولی النبي ۔ صلی اللہ علیه وسلم ۔ وقال البراء: عن النبي صلى الله عليه وسلم: «أنت أخونا ومولانا» اھ (۱/۵۲۸)۔
وفي مرقاۃ المفاتیح شرح مشکاۃ المصابیح: وفي النهاية: المولى يقع على جماعة كثيرة فهو الرب والمالك والسيد والمنعم والمعتق والناصر والمحب والتابع والخال وابن العم والحليف والعقيد والصهر والعبد والمعتق والمنعم عليه، وأكثرها قد جاءت في الحديث فيضاف كل واحد إلى ما يقتضيه الحديث الوارد فيه اھ (۱۰/۴۶۳)۔
وفیه ٲیضا: وفي الرياض عن رباح بن الحارث قال: جاء رهط إلى علي بالرحبة فقالوا: السلام عليك يا مولانا، فقال كيف أكون مولاكم وأنتم عرب؟ قالوا: سمعنا رسول الله - صلى الله عليه وسلم - يقول يوم غدير خم: " «من كنت مولاه فعلي مولاه» " اھ (۱۰/۴۷۶) واللہ أعلم بالصواب!
عوث اعظم، دستگیر، داتا گنج بخش، غریب نواز اور مشکل کشا جیسے الفاظ کا مفہوم اور استعمال کا حکم
یونیکوڈ شرک و مشرکانہ عقائد 1غیر اللہ کو اوّل وآخر اور ظاہر وباطن سمجھنا- "دجال مارے گا، زندہ کرے گا "کا عقیدہ رکھنا
یونیکوڈ شرک و مشرکانہ عقائد 0حضور نبی اکرمﷺ کے عالم الغیب ہونے کا عقیدہ - نماز جنازہ کے بعد دعا کرنا
یونیکوڈ شرک و مشرکانہ عقائد 0دوران بحث قادیانی سے مرزا غلام احمد قادیانی کی نبوت کی دلیل طلب کرنے کا حکم
یونیکوڈ شرک و مشرکانہ عقائد 0