کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میاں بیوی کے درمیان ناچاقی ہوگئی، جس کی وجہ سے میں نے وکیل سے کہا کہ طلاق نامہ بنوا دو۔ وکیل نے تین طلاقوں پر مشتمل طلاق نامہ بنوا لیا۔ اگرچہ میں نے وکیل سے صراحتاً یہ نہیں کہا تھا کہ تین طلاقوں پر مشتمل طلاق نامہ بناؤ، لیکن میرے ذہن میں یہ بات تھی کہ جیسے عمومی طور پر طلاق نامہ بنتا ہے، اسی طرح بنواؤ، اور وکیل نے مجھ سے پوچھا بھی تھا تو میں نے کہا کہ بنواؤ جیسے عموماً بنتا ہے ، تو وکیل نے تین طلاقوں پر مشتمل طلاق نامہ بنوا لیا، لیکن میں نے ابھی تک اس پر دستخط نہیں کیے ۔ وکیل نے مجھ سے یہ بھی کہا تھا کہ جب تک دستخط نہیں ہوں گے، طلاق واقع نہیں ہوگی ان کاغذات کے بنوانے کے بعد ، ہماری صلح ہوگئی ہے اور ہم دوبارہ ساتھ رہتے رہے ،لیکن اب ایک عرصہ سے ایک دوسرے سے علیحدگی اختیار کی ہے ۔ لہٰذا معلوم کرنا یہ ہے کہ مذکورہ صورت میں کیا طلاقیں واقع ہوئی ہیں یا نہیں؟ اور کیا اس کے بعد ہم دونوں کا میاں بیوی کی حیثیت سے ایک ساتھ رہنا جائز ہے ؟
واضح ہو کہ طلاق کے وقوع کے لیے شوہر کا طلاق نامہ پر دستخط کرنا ضروری نہیں ہے، بلکہ شوہر کا اپنی مرضی و اختیار سے خود یا کسی دوسرے شخص کے ذریعے محض طلاق نامہ تیار کروا نے سے بھی شرعاً طلاق واقع ہوجاتی ہے۔لہٰذا صورت مسئولہ میں جب سائل نے اپنی مرضی و اختیار سے وکیل کو طلاق نامہ بنوانے کے لیے کہا، اور سائل کے ذہن میں یہ بھی تھا کہ جیسے عموماً طلاق نامہ بنتا ہے، اسی طرح بنواؤ، پھر وکیل نے سائل کے کہنے پر منسلکہ تین طلاقوں پر مشتمل طلاق نامہ تیار کروا لیا، تو اگرچہ سائل نے ابھی تک اس پر دستخط نہیں کیے ، تب بھی طلاق نامہ بنوانے کے ساتھ ہی سائل کی بیوی پر طلاق نامہ میں درج تینوں طلاقیں واقع ہوکر حرمت مغلظہ ثابت ہوچکی ہے۔ اب رجوع نہیں ہوسکتا اور نہ حلالہ شرعیہ کے بغیر دوبارہ باہم عقد نکاح بھی نہیں ہوسکتا ہے ۔اور اس طلاق نامہ بنوانے کے بعد جتنا عرصہ یہ دونوں میاں بیوی کی حیثیت سے ایک ساتھ رہتے رہے ہیں ،گناہ کبیرہ کے مرتکب رہے اس لئے ان دونوں پر اپنے گزشتہ عمل پر بصدق دل توبہ و استغفار اور آئندہ کے لئے ایک دوسرے سے علیحدگی اختیار کرنا لازم ہے جبکہ عورت ایام عدت گزارنے کے بعد کسی دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہے ۔
قال اللّٰہ تعالیٰ : اَلطَّلاَقُ مَرَّتٰنِ (الہ قولہ) فَإِنْ طَلَّقَہَا فَلاَ تَحِلُّ لَہٗ مِنْ بَعْد حَتّٰی تَنْکِحَ زَوْجًا غَیْرَہٗ الایۃ(البقرۃ آیت : 229،230)
وفی الشامیۃ : الكتابة على نوعين: مرسومة وغير مرسومة، ونعني بالمرسومة أن يكون مصدرا ومعنونا مثل ما يكتب إلى الغائب. وغير المرسومة أن لا يكون مصدرا ومعنونا، وهو على وجهين: مستبينة وغير مستبينة، فالمستبينة ما يكتب على الصحيفة والحائط والأرض على وجه يمكن فهمه وقراءته. وغير المستبينة ما يكتب على الهواء والماء وشيء لا يمكنه فهمه وقراءته. ففي غير المستبينة لا يقع الطلاق وإن نوى، وإن كانت مستبينة لكنها غير مرسومة إن نوى الطلاق وإلا لا، وإن كانت مرسومة يقع الطلاق نوى أو لم ينو ثم المرسومة لا تخلو إما أن أرسل الطلاق بأن كتب: أما بعد فأنت طالق، فكما كتب هذا يقع الطلاق وتلزمها العدة من وقت الكتابة ۔۔۔۔۔ ولو قال للكاتب: اكتب طلاق امرأتي كان إقرارا بالطلاق وإن لم يكتب (ج3،ص246، مطلب في الطلاق بالكتابة ط:سعید)