میرے دوست نے اپنی بیوی کو تین دفع طلاق دیدی، طلاق کے بعد اُس کی بیوی نے عدالت میں نان و نفقہ کا کیس کیا، کیس سے بچنے کے لیے وہ اپنی بیوی کو منا کر گھر لے آیا، جن میں سے ایک بیٹا بھی تھا، کیس چھ مہینے تک چلا، لڑکی سنی اور لڑکا شیعہ ہے، گواہوں کی موجودگی میں طلاق دی گئی تھی، لڑکی کا شوہر کے ساتھ تعلق جائز ہے یا نہیں؟ ایک سوال ہے۔
دوسرا سوال: لڑکی غریب ہے اور گھر چلانے کے لیے کسی اور سے ناجائز تعلق رکھتی ہے پیڈسیکس (جسم فروشی) کے ذریعے، اگلے بندے پر ،لڑکی پر اور اس کے سابق شوہر پر کیا سزائیں لگتی ہیں؟ جس لڑکے سے لڑکی کا ابھی تعلق ہے، دورانِ کیس اس سے شادی کا وعدہ کیا گیا اور لڑکے نے مالی مدد بھی کی، اب لڑکی مُکر کر واپس اپنے شوہر کے پاس چلی گئی ہے، ایسی عورت سے زنا کرنا ہوا یا مالی مدد دینے کی بنیاد پر پیڈسکس کرنا ہوا؟ جیسے کہ سیکس اپنے شوہر سے اور اپنے محبوب سے دونوں؟ کیا یہ گناہ ہے؟ قرآن و حدیث سے تفصیلی فتویٰ بھیجیں۔
صورتِ مسؤلہ میں سائل کے دوست نے اگر واقعۃ اپنی بیوی کو تین طلاقیں دیدی ہوں، تو اس سے اسکے دوست کی بیوی پر تینوں طلاقیں واقع ہو کر حرمت مغلظہ ثابت ہو چکی ہے ، جس کے بعد رجوع نہیں ہو سکتا ، کیونکہ تین طلاقوں کے بعد بیوی شوہر پر بالکل حرام ہوجاتی ہے ،اس کے بعد دونوں کا میاں بیوی کی حیثیت سے اکٹھے رہنا زنا اور حرام کاری کے زمرے میں آتاہے، لہٰذا صورتِ مسئولہ میں سائل کے دوست کیلئے طلاقِ ثلاثہ کے بعد بیوی سے جنسی تعلقات رکھنا حرام ہے ، اسی طرح مذکور لڑکی اپنی معاشی ضروریات پوری کرنے کے بہانے کسی اجنبی مرد سے ناجائز جنسی تعلقات قائم کرنے کی وجہ سے سخت گنہگار ہوئی ہے، اور اگر اسلامی حکومت قائم ہوتی اور لڑکی لڑکے کے اقرار یا گواہوں کی گواہی سے ان کے مذکور حرام تعلقات ثابت ہو جاتے تو ان پر بطورِ حد سنگساری کی سزا جاری ہو جاتی، مگر چونکہ اسلامی قانون نافذ العمل نہیں اس لیے از خود کسی شخص کو ان پر سزا جاری کرنے کا اختیار حاصل نہیں ،بلکہ ان دونوں پر لازم ہے کہ وہ فورا ًان تعلقات کو ختم کریں اور ماضی میں ہوئی غلطی پر ندامت کے ساتھ بصدقِ دل توبہ و استغفار بھی کریں اور ائندہ کے لیے ایک دوسرے سے دور رہیں، اور اگر وہ باہم نکاح کرنے کے خواہش مند ہوں تو عورت کے اپنے سابقہ شوہر کی عدت گزارنے کے بعد وہ دونوں گواہوں کی موجودگی میں حق مہر کے تقرر کےساتھ باقاعدہ عقدِ نکاح کر کے میاں بیوی کی حیثیت سے زندگی بسر کر سکتے ہیں، جبکہ عورت پر یہ بھی لازم ہے کہ وہ فوراً اپنے سابقہ شوہر سے علیحدگی اختیار کر لے، تین طلاق کے بعد ان کے ساتھ رہنے سے اجتناب لازم ہے۔
کماقال الله تعالى: فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تنكح زوجا غيره، الخ (سورۃ البقرۃ، الآیۃ: 230)-
وفی المرقاۃ: وعن رافع بن خديجؓ قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ثمن الكلب خبيث، ومهر البغي خبيث، وكسب الحجام خبيث" رواه مسلم،
قال الشارح العلام: تحت ھذا الحدیث (ومهر البغي) : بتشديد الياء وهو فعول في الأصل بمعنى الفاعلة من بغت المرأة بغاء بالكسر إذا زنت، ومنه قوله تعالى: ولا تكرهوا فتياتكم على البغاء، الخ(سورۃ النور، الآیۃ: 33) والمعنى مهر الزانية (خبيث) أي: حرام إجماعا لأنها تأخذه عوضا عن الزنا المحرم، ووسيلة الحرام حرام، وسماه مهرا مجازا لأنه في مقابلة البضع، الخ (کتاب البیوع، باب الكسب وطلب الحلال، ج 5، ص 1894، ط: دار الفکر،بیروت)-
وفی الھدایۃ: "و إذا كان الطلاق بائنا دون الثلاث فله أن يتزوجها فی العدة و بعد إنقضائها، و إن كان الطلاق ثلاثا فی الحرة أو ثنتين فی الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا و يدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها، الخ (كتاب الطلاق، باب الرجعة، فصل فيما تحل به المطلقة، ج 2، ص 92، ط: مکتبۃ إنعامیۃ)-