کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ گھرمیں میرےساتھ لڑائی جھگڑے کے دوران میرے بیٹے نے مجھےیہ کہاکہ " میں کام پر نہیں جاؤں گا ،اگر میں کام پر گیا تو میری بیوی مجھ پر طلاق ہوگی " اورپھروہ کام پرنہیں گیا،اسی طرح دوسرا جملہ یہ کہا کہ" اگر میں اس گھر میں رہا تو مجھ پر میری بیوی طلاق ہوگی"اورپھروہ اس گھرمیں رہاہے،اس کے بعداس نے مجھے بولاکہ اب یہ مجھ پرحرام ہوگئی ہے ،میری بیوی مجھ پرطلاق ہے ،مجھ پرطلاق ہے "جبکہ لڑکے کادعوی ہے کہ پہلے دوجملے مجھے یادہیں ،جبکہ تیسرے جملہ میں صرف یہ بولاتھاکہ آپ کی وجہ سے اب یہ مجھ پرحرام ہوگئی ہے۔
نوٹ: سائل اوراس کی والدہ کوبلاکرمعلوم کیاتواس پرانہوں نے وضاحت دی کہ انہیں چونکہ دماغی بیماری ہے اس لیے انہیں یادنہیں رہتا،لیکن پہلے معلق دوطلاقوں کےبعدمیں نے والدہ کویہ کہاکہ آپ کی وجہ سے میری بیوی مجھ پرحرام ہوگئی ہےاورذہن میں یہ بات تھی کہ چونکہ دومرتبہ جوالفاظ (معلق طلاق)بولے تھے ،اسی کی بنیادپریہ جملہ بولاتھا،اس کے بعدمزیدالفاظ بولے ،جس میں مجھےایک دفعہ یادہے لیکن والدہ دومرتبہ بتاتی ہے توایساہی ہوگا۔
صورت مسئولہ میں مسمٰی" ...."نے جب اپنی والدہ کوتنازع کے دوران مذکورجملہ " میں کام پر نہیں جاؤں گا ،اگر میں کام پر گیا تو میری بیوی مجھ پر طلاق" اسی طرح دوسراجملہ "اگر میں اس گھر میں رہا تو مجھ پر میری بیوی طلاق "کہہ دیاتوان دونوں جملوں سے اس کی بیوی پرمجموعی طورپردوطلاقیں معلق ہوگئی تھیں ،اوران طلاقوں کاوقوع مذکورشرطوں (کام پرجانے،گھرپررہنے)کے پائے جانے پرموقوف تھا،لیکن اس كے بعدوالده كومخاطب كرتے هوئےالفاظ "آپ کی وجہ سے یہ مجھ پرحرام ہوگئی ہے "اگرسابقہ معلق طلاق کے پس منظرمیں کہے گئے ہوں،دوبارہ سے کوئی طلاق دینے کاارادہ نہ ہو تواگرچہ ان الفاظ سے کوئی طلاق واقع نہ ہوگی تاہم اس کے بعدوالے الفاظ "مجھ پرطلاق ہے ،مجھ پرطلاق ہے ،تنجیزطلاق پردلالت کرتےہیں،چنانچہ ان الفاظ اورایک معلق طلاق "اگرمیں اس گھرمیں رہاالخ"میں شرطِ تعلیق پائے جانے کی وجہ سے اس کی بیوی پرمجموعی طورپرتینوں طلاقیں واقع ہوکرحرمت مغلظہ ثابت ہوگئی ،اب رجوع نہیں ہوسکتااورنہ ہی حلالہ شرعیہ کے بغیردوبارہ نکاح ہوسکتاہے ،لہذا دونوں پرلازم ہے کہ فوراایک دوسرے سے علیحدگی اختیارکریں ،اورمیاں بیوی والے تعلقات ہرگزقائم نہ کریں ورنہ وہ سخت گناہ گارہوں گے،جبکہ عورت عدت گزارنے کے بعددوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزادہوگی ۔
قال اللہ تعالی: فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ اھ (سورۃ البقرۃ:230)۔
کما فی الھندیۃ: وإذا قال لإمرأتہ أنت طالق و طالق و طالق و لم یعلقہ بالشرط إن کانت مدخولۃ طلقت ثلاثاً و إن کانت غیر مدخولۃ طلقت واحدۃ و کذا إذا قال أنت طالق فطالق فطالق أو ثم طالق ثم طالق أو طالق طالق الخ ( الباب الثانی فی ایقاع الطلاق ج 1 ص 355 ط: ماجدیہ)۔
و فیھا ایضاً: وإن کان الطلاق ثلاثاً فی الحرۃ و ثنتین فی الامۃ لم تحل لہ حتی تنکح زوجاً غیرہ نکاحاً صحیحاً و یدخل بھا ثم یطلقھا أو یموت عنھا الخ (فصل فیما تحل بہ المطلقۃ ج 1 ص 273 ط: ماجدیہ) ۔
وفی الدر المختار: (الصريح يلحق الصريح و) يلحق (البائن) بشرط العدة (والبائن يلحق الصريح) الصريح ما لا يحتاج إلى نية بائنا كان الواقع به أو رجعيا فتح الخ
وفی رد المحتار: (قوله الصريح يلحق الصريح) كما لو قال لها: أنت طالق ثم قال أنت طالق أو طلقها على مال وقع الثاني بحر، فلا فرق في الصريح الثاني بين كون الواقع به رجعيا أو بائنا (قوله ويلحق البائن) كما لو قال لها أنت بائن أو خلعها على مال ثم قال أنت طالق أو هذه طالق بحر عن البزازية، ثم قال: وإذا لحق الصريح البائن كان بائنا لأن البينونة السابقة عليه تمنع الرجعة كما في الخلاصة. الخ ( ج 3 ص 306 ط: سعید)۔