السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
میرا مسئلہ یہ ہے کہ ایک لڑکے اور لڑکی نے اپنی مرضی سے نکاح کیا۔ دونوں بالغ اور عاقل تھے۔ نکاح پاکستان میں عدالت کے ذریعے ہوا، نکاح خواں نے شرعی طریقے سے نکاح پڑھایا، دو مسلمان گواہ موجود تھے، نکاح رجسٹرڈ بھی ہوا۔
نکاح سے پہلے لڑکا اور لڑکی کے درمیان تعلق قائم ہو گیا تھا، جس کے نتیجے میں لڑکی تقریباً ایک ماہ کی حاملہ تھی۔ اسی حالت میں دونوں نے نکاح کیا۔ بعد میں بچی پیدا ہوئی۔
نکاح کے تقریباً تین سال بعد لڑکے کے والدین اور خاندان والوں نے لڑکے پر بہت دباؤ ڈالا کہ وہ اپنی بیوی کو طلاق دے۔ لڑکا طلاق دینا نہیں چاہتا تھا اور آخری وقت تک انکار کرتا رہا۔
لڑکے کے والدین نے فون پر دھمکیاں دیں کہ اگر تم نے اسے نہ چھوڑا تو ہم خود کو نقصان پہنچا لیں گے، تمہیں بھی نقصان پہنچوائیں گے، اور تمہیں خاندان کی تباہی کا ذمہ دار ٹھہرائیں گے۔ اس وقت لڑکے کے ساتھ بیرونِ ملک اس کے چچا اور کزن موجود تھے، جنہوں نے یہ حالات سنے اور دیکھے۔
اسی دباؤ کی حالت میں لڑکے نے اپنی بیوی کو فون کیا اور ایک ہی مجلس میں تین مرتبہ کہا: "میں تمہیں طلاق دیتا ہوں، میں تمہیں طلاق دیتا ہوں، میں تمہیں طلاق دیتا ہوں۔"
طلاق دینے کے فوراً بعد جب گھر والے وہاں سے چلے گئے تو لڑکے نے اپنی بیوی سے رابطہ کیا اور بتایا کہ یہ طلاق اس نے شدید دباؤ اور مجبوری میں دی ہے، وہ حقیقت میں طلاق نہیں دینا چاہتا تھا۔
طلاق کو تقریباً ڈیڑھ سے دو سال ہو چکے ہیں۔ اس دوران دونوں کے درمیان کوئی ازدواجی تعلق قائم نہیں ہوا۔
براہِ کرم رہنمائی فرمائیں:
کیا نکاح، جو حمل کی حالت میں ہوا تھا، شرعاً صحیح تھا؟
کیا مذکورہ حالات میں دی گئی تین طلاقیں واقع ہوئیں یا شدید جبر کی وجہ سے ان کا حکم مختلف ہوگا؟
اگر طلاق واقع نہیں ہوئی تو کیا دونوں دوبارہ میاں بیوی کی طرح رہ سکتے ہیں؟
اگر طلاق واقع ہوئی ہے تو اس کا شرعی حکم کیا ہے؟
گواہ موجود ہیں جو والدین کی دھمکیوں اور لڑکے کی کیفیت کی تصدیق کر سکتے ہیں۔
جزاکم اللہ خیراً
مذکور لڑکے اور لڑکی کا نکاح سے قبل ناجائز تعلقات قائم کرنا اور پھر اولیاء کی اجازت و رضامندی کے بغیر بذریعہ عدالت نکاح کرنا شرعا ناجائز اور معیوب عمل تھا، تاہم جب لڑکے اور لڑکی نے باقاعدہ گواہوں کی موجودگی میں نکاح کیا، اور تقریبا عرصہ تین سال تک ساتھ رہیں تو اس کے بعد شوہر نے والدین اور خاندان والوں کے اصرار پر جب اپنی بیوی کو "میں تمہیں طلاق دیتا ہوں، میں تمہیں طلاق دیتا ہوں، میں تمہیں طلاق دیتا ہوں" کے الفاظ کہہ دیئے تو اس سے اس کی بیوی پر تینوں طلاقیں واقع ہوکر حرمت مغلظہ ثابت ہوچکی ہے، اب رجوع نہیں ہوسکتا، اور حلالہ شرعیہ کے بغیر باہم عقد نکاح بھی نہیں ہوسکتا، جبکہ عدت گزارنے سے بعد خاتون کسی اور جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہے۔لہذا دونوں میاں بیوی پر لازم ہے کہ ایک دوسرے سے علیحدگی اور نکاح سے پہلے جو ناجائز تعلق قائم کیا تھا اس پر مکمل ندامت کے ساتھ اللہ تعالی کے حضور مسلسل توبہ کرکے آئندہ کیلیے ناجائز کاموں سے اجتناب کریں۔