سن 2008 میں میں برطانیہ (یو کے) میں مقیم تھا۔ اس دوران میں نے وہاں ایک مالی ادارے سے پرسنل لون لیا، اسی ادارے کا کریڈٹ کارڈ استعمال کیا، اور ایک فون کنٹریکٹ بھی لیا جس کی ماہانہ ادائیگیاں تھیں۔ بعد میں ویزا کے مسائل اور گھریلو دباؤ کے باعث میں برطانیہ چھوڑ کر واپس آگیا، اور ان سب کی مکمل ادائیگی اُس وقت نہیں ہو سکی۔
اب میں کئی سال سے کینیڈا میں مقیم ہوں اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس حالت میں ہوں کہ اپنی استطاعت کے مطابق یہ مالی حقوق ادا کر سکوں۔ میری نیت یہ ہے کہ میں اس دنیا سے جانے سے پہلے اپنے ذمہ جو بھی سابقہ قرض، کریڈٹ کارڈ اور فون کنٹریکٹ کے حقوق ہیں، انہیں شریعت کے مطابق ادا کر کے اللہ تعالیٰ کے سامنے بری الذمہ ہو جاؤں۔
میں نے برطانیہ میں متعلقہ اداروں سے رابطہ کرنے کی کچھ کوشش کی ہے، لیکن ابھی تک کوئی واضح جواب یا عملی راستہ نہیں مل سکا کہ میں یہ حقوق کس طرح ادا کروں۔موجودہ اداروں کے پاس زیادہ تر 2009 کے بعد کا ڈیٹا موجود ہے، جبکہ 2008 اور اس سے پہلے کے قرضوں کا مکمل ریکارڈ بھی واضح نہیں ہے۔
براہِ کرم قرآن و سنت کی روشنی میں مختصر مگر واضح رہنمائی فرمائیں کہ میری موجودہ صورتحال میں شرعاً درست اور محتاط طریقہ کیا ہونا چاہیے، تاکہ میں ان مالی حقوق سے بری الذمہ ہو سکوں۔
اللہ تعالیٰ آپ حضرات کو جزائے خیر عطا فرمائے۔
والسلام
خادمِ دعاگو
سلیمان رحمن
صورت مسئولہ میں سائل کا مذکور مالی ادارے کا کریڈٹ کارڈ استعمال کرنا اور لون لیکر اس کی ادائیگی میں بغیر کسی عذر کے تاخیر اور ٹال مٹول سے کام لینا گناہ اور شرعا وعدہ خلافی کے زمرہ میں آتا ہے، جس پر سائل کو بصدق دل توبہ و استغفار اور اب متعلقہ کمپنی سے اپنا قرضہ معاف کرانا یا سودی رقم کے علاوہ حقیقی قرضے کی فی الفور ادائیگی کو یقینی بنانا لازم ہے۔ جس کے لیے کمپنی کے ذمہ داران سے رابطہ کرکے انہیں حقیقی صورتحال سے آگاہ کرکے کوئی ترتیب بنائی جاسکتی ہے۔ لیکن اگر کمپنی سائل کو پہنچاننے سے انکار کرے، یا جس وقت سائل نے لون لیا ہے اس وقت کے ریکارڈ کے ڈیٹا کی عدم موجودگی کا اظہار کرے تو ایسی صورت میں بھی سائل پر لازم ہے کہ از خود کمپنی کو یقین دلائے کہ انہوں نے کمپنی سے اتنی رقم براہ راست اور کریڈٹ کارڈ وغیرہ کے ضمن میں قرض لی تھی، اس کے بعد اگر کمپنی کے مجاز افراد اس قرض کو معاف کردیتے ہیں تو سائل کے ذمہ اس کی ادائیگی شرعا لازم نا ہوگی۔ ورنہ سائل پر لازم ہے کہ کسی بھی طرح کمپنی کو اصل رقم کی بقدررقم لوٹائے۔ اور اگر کمپنی کے سامنے مکمل نوعیت سامنے آنے کے باوجود بھی وہ اس رقم کے لینے سے انکار کرے تو ایسی صورت میں سائل کے ذمہ ادائیگی لازم نہیں ہے، اور شرعا یہ سمجھا جائیگا کہ گویا کمپنی نے سائل کو یہ رقم معاف کردی ہے۔
في الفتاوى الهندية: هبة الدين ممن عليه الدين جائزة قياسا واستحسانا (إلى قوله)هبة الدين ممن عليه الدين وإبراؤه يتم من غير قبول من المديون ويرتد برده ذكره عامة المشايخ رحمهم الله تعالى وهو المختار كذا في جواهر الأخلاطي اه (الباب الرابع في هبة الدين ممن عليه الدين 4/428)
و في الدر المختار مع ردالمحتار لابن عابدين: (وركنها) : هو (الإيجاب والقبول) اه
و في رد المحتار مع الدر المختار: تحت قوله (وركنها) : هو (الإيجاب والقبول) :قلت : فقد أفاد أن التلفظ بالإيجاب والقبول لا يشترط ، بل تكفي القرائن الدالة على التمليك اه (كتاب الهبة 8/489، دار عالم الكتب)
قرض کی مدت پوری ہونے پر, قرضخواہ کا مقروض کے کاروبار میں, خود کو شریک سمجھ کر نفع کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ قرض 0