اگر شوہر بیوی سے کہے کہ تیرے لیے اب طلاق ہے,،میں تجھے طلاق دے چکا ہوں تو اب میری بیوی نہیں ہے ،نکل جا میرے گھر سے ، کئی بار کہا ایک ہی وقت میں ، تو کیا طلاق ہوجاتی ہے ، پھر ایک مہینے بعد رجوع کرلے کہ صلح کرلیتے ہیں ؟
سائل نے سوال میں اس بات کی وضاحت نہیں کی کہ شوہر نے مذکور الفاظ بیوی کو کتنی بار اور کس نیت سے کہے تھے ،تاکہ اس کے مطابق حتمی حکم شرعی بیان کیا جاسکتا ،تاہم اگر شوہر نے مذكور الفاظ لڑائی اور جھگڑے کے دوران تین سے زائد بار کہے ہوں تو اس سے اسکی بیوی پر تینوں طلاقیں واقع ہو کر حرمت مغلظہ ثابت ہوچکی ہے، جس کے بعد رجوع نہیں ہوسکتا ،چنانچہ ایک مہینے کے بعد ان دونوں کا مصالحت کے نام پر رجوع کرکے میاں بیوی کی حیثیت سے ساتھ رہنا جائز نہیں، لہٰذا دونوں پر لازم ہے کہ فوراً ایک دوسرے سے علیحدگی اختیار کریں ، اور میاں بیوی والے تعلقات ہرگز قائم نہ کریں، اور اب تک ایک ساتھ رہنے کی وجہ سے جو گناہ سرزد ہو چکاہے،اس پر بصدق دل توبہ واستغفار اور آئندہ اس قسم کے ناجائز کاموں سے مکمل اجتناب کریں،جبکہ عورت عدت کے بعد دوسری جگہ نکاح کرنے میں آزاد ہوگی ۔
كما في صحيح البخاري : وَقَالَ اللَّيْثُ، عن نَافِعٌ: كَانَ ابْنُ عُمَرَ إِذَا سُئِلَ عَمَّنْ طَلَّقَ ثَلَاثًا قَالَ: لَوْ طَلَّقْتَ مَرَّةً أَوْ مَرَّتَيْنِ، فَإِنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم أَمَرَنِي بِهَذَا، فَإِنْ طَلَّقْتَهَا ثَلَاثًا حَرُمَتْ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَكَ؛ (كتاب الطلاق, فصل في من قال لامرأته انت علي حرام, ج:5,ص:2016,ط: دار ابن كثير، دار اليمامة – دمشق)
وفي الهندية : وإذا قال لامرأته أنت طالق وطالق وطالق ولم يعلقه بالشرط إن كانت مدخولة طلقت ثلاثا وإن كانت غير مدخولة طلقت واحدة وكذا إذا قال أنت طالق فطالق فطالق أو ثم طالق ثم طالق أو طالق طالق كذا في السراج الوهاج؛(كتاب الطلاق , الباب الثاني ,الفصل الاول , ج : 1, ص : 355. 356,ط:ماجديه كوئته)
وفيه ايضا :متى كرر لفظ الطلاق بحرف الواو أو بغير حرف الواو يتعدد الطلاق وإن عنى بالثاني الأول لم يصدق في القضاء كقوله يا مطلقة أنت طالق أو طلقتك أنت طالق؛(ايضا)
وفي المحيط البرهاني : أما قوله ليست لي امرأة، ما أنا بزوجك كما يحتمل نفي النكاح من الأصل يحتمل للحال بالقطع أي ليست لي امرأة لأني قد طلقتك، ألا ترى أنه لو صرح به يصح، فإذا نوى به الطلاق فقد نوى ما يحتمله لفظه، ولو قال لا نكاح بيني وبينك ( كتاب الطلاق ، الفصل الخامس :في الكنايات ، ج:3,ص :23، ط : دار الكتب العلمية، بيروت – لبنان )
وفي شرح الأشباه والنظائر وَلَوْ كَرَّرَ لَفْظَ الطَّلَاقِ فَإِنْ قَصَدَ الِاسْتِئْنَافَ وَقَعَ الْكُلُّ، أَوْ التَّأْكِيدَ فَوَاحِدَةٌ دِيَانَةً، وَالْكُلُّ قَضَاء» ( ج:1.ص:188.ط: دار الكتب العلمية "بيروت)
وفي الاشباه والنظائر: لَوْ قَالَ لِزَوْجَتِهِ: أَنْتِ طَالِقٌ طَالِقٌ طَالِقٌ طَلُقَتْ ثَلَاثًا، فَإِنْ قَالَ: أَرَدْتُ بِهِ التَّأْكِيدَ صُدِّقَ دِيَانَةً لَا قَضَاءً؛ ( ص:126, ط : دار الكتب العلمية، بيروت – لبنان)
وفي الدرالمختار: وَالْبِدْعِيُّ ثَلَاثٌ مُتَفَرِّقَةٌ أَوْ ثِنْتَانِ بِمَرَّةٍ أَوْ مَرَّتَيْنِ) فِي طُهْرٍ وَاحِدٍ(لَارَجْعَةَفِيهِ)؛(كتاب الطلاق,ركن الطلاق ,ج:3 ,ص :232. 233, ط:ایچ ایم سعید)