بخدمت جناب مفتی صاحب، السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
بحیثیت مسلمان، میرا تعلق اہلِ سنت والجماعت سے ہے۔ میں 21 جنوری 2026 سے حاملہ ہوں۔
میرے شوہر.....نے مجھے 8 مارچ 2026 کو شام 5 بج کر 16 منٹ پر ٹیکسٹ میسج کے ذریعے ایک طلاق دی۔ الفاظ یہ تھے"میں تمہیں طلاق دیتا ہوں۔" پہلی طلاق کے بعد میرے شوہر نے "میں نے رجوع کیا "کہہ کر مجھ سے ازواجی تعلق قائم کیا۔ اس کے بعد 29 جون 2026 کو رات 12 بج کر 53 منٹ پر زبانی ایک طلاق دی۔ دوسری طلاق کے وقت ان کی والدہ، بھائی اور بھابھی موجود تھے، جو اس کے گواہ ہیں۔ الفاظ یہ تھے: "میں اِسے طلاق دیتا ہوں۔"
جنابِ مفتی صاحب! میرے پاس مذکورہ تمام واقعات کے تحریری پیغامات اور دیگر شواہد موجود ہیں۔ آپ سے مؤدبانہ گزارش ہے کہ شریعتِ مطہرہ کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں کہ اس صورتِ حال میں میری شرعی حیثیت کیا ہے اور مذکورہ طلاقوں کا شرعی حکم کیا ہے ؟
صورتِ مسئولہ میں اگر سائلہ کا بیان واقعۃً درست اور مبنی بر حقیقت ہو، اور اس میں کسی قسم کی غلط بیانی یا دروغ گوئی سے کام نہ لیا گیا ہو، بایں معنی کہ واقعۃً سائلہ کے شوہر نے پہلی مرتبہ بذریعہ میسج مذکور الفاظ "میں تمہیں طلاق دیتا ہوں" کے ساتھ ایک طلاق دی ہو، تو اس سے سائلہ پر ایک طلاق رجعی واقع ہوچکی تھی۔ چنانچہ اس کے بعد جب سائلہ کے شوہر نے دوران عدت رجوع کرلیا تھا تو شرعاً رجوع بھی درست ہوچکا تھا اور دونوں کا میاں بیوی کی حیثیت سے ایک ساتھ رہنا بھی جائز تھا۔
جبکہ حالیہ واقعہ میں بھی اگر سائلہ کے شوہر نے مذکورہ الفاظ "میں اسے طلاق دیتا ہوں" فقط ایک مرتبہ کہہ دیے ہوں، تو اس سے سائلہ پر ایک اور طلاق رجعی واقع ہوکر مجموعی طور پر دو طلاقیں واقع ہوچکی ہیں۔جس کے بعد دورانِ عدت سائلہ کے شوہر کو رجوع کا اختیار حاصل ہے ۔ چنانچہ اگر وہ دوران عدت زبانی جیسے " میں رجوع کرتا ہوں " کہہ کر یا عملاً بیوی سے بوس و کنار یا میاں بیوی والا تعلق قائم کرکے رجوع کرلیتا ہے تو یہ رجوع درست ہوکر میاں بیوی کا نکاح حسب سابق برقرار رہے گا ،بصورت دیگر عدت میں رجوع نہ کرنے کی صورت میں عدت مکمل ہونے پر یہ دو طلاقیں بائن ہوکر میاں بیوی کا نکاح ختم ہوجائے گا ،جس کے بعد میاں بیوی کا باہمی رضامندی سے ساتھ رہنے کے لئے باقاعدہ گواہان کی موجودگی میں نئے حق مہر کے تقرر کے ساتھ باضابطہ ایجاب و قبول کرتے ہوئے تجدید نکاح لازم ہوگا ،بہر دو صورت سائلہ کے شوہر کو آئندہ کے لئے فقط ایک طلاق کا اختیار ہوگا ،اس لئے آئندہ طلاق کے معاملہ میں خوب احتیاط چاہیئے ۔
کمافی الھندیة: (الفصل الأول في الطلاق الصريح) . وهو كأنت طالق ومطلقة وطلقتك وتقع واحدة رجعية وإن نوى الأكثر أو الإبانة أو لم ينو شيئا كذا في الكنز. اھ(1/354)-
وفیھاایضاً:الرجعة إبقاء النكاح على ما كان ما دامت في العدة كذا في التبيين وهي على ضربين: سني وبدعي (فالسني) أن يراجعها بالقول ويشهد على رجعتها شاهدين ويعلمها بذلك فإذا راجعها بالقول نحو أن يقول لها: راجعتك أو راجعت امرأتي ولم يشهد على ذلك أو أشهد ولم يعلمها بذلك فهو بدعي مخالف للسنة والرجعة صحيحة وإن راجعها بالفعل مثل أن يطأها أو يقبلها بشهوة أو ينظر إلى فرجها بشهوة فإنه يصير مراجعا عندنا إلا أنه يكره له ذلك ويستحب أن يراجعها بعد ذلك بالإشهاد كذا في الجوهرة النيرة.(. ألفاظ الرجعة صريح وكناية) (فالصريح) : راجعتك في حال خطابها أو راجعت امرأتي حال غيبتها وحضورها أيضا ومن الصريح ارتجعتك ورجعتك ورددتك وأمسكتك ومسكتك بمنزلة أمسكتك فهذه يصير مراجعا بها بلا نية.(والكناية) : أنت عندي كما كنت وأنت امرأتي فلا يصير مراجعا إلا بالنية كذا في فتح القدير. اھ(1/468)-