کیا فرماتے ہیں علماء کرام مندرجہ ذیل مسئلہ میں کہ میں مسمیٰ ۔۔۔۔۔ اور مسماۃ ۔۔۔۔۔۔ نے کورٹ میرج کیا تھا، اس نکاح میں لڑکی کے والدین بھی موجود تھے ،یہ میرا دوسرا نکاح تھا،اور یہ نکاح باقاعدہ گواہان کی موجودگی میں ہوگیاتھا، اس کے بعد ہم میاں بیوی کے حیثیت سے رہتے رہے،لیکن پھر مجھ پر گھر والوں کی طرف سے خاص کر والد کے طرف سے دباؤ ڈالاگیا کہ میں اپنی دوسری بیوی کو طلاق دیدوں،ورنہ والد صاحب مجھے گھر سے نکال دیں گے، قطع تعلق کردینگے، اس طرح دباؤ میں آکر میں اسٹامپ پیپر والے کے پاس گیا اور ارادہ یہ تھا کہ صرف والدین کو دکھانے کیلئے ایک طلاق نامہ بنواتاہوں تو اس طرح میں نے خود ان کو طلاق نامہ بنوانے کیلئے کہا اور میں نے اس پر دستخط بھی کردیے اور لاکر گھر میں رکھ دیا،اب معلوم یہ کرنا ہے کہ اس صورت میں ہماری طلاق واقع ہوگئی کہ نہیں،اگر طلاقیں واقع ہوئی ہیں تو اب آئندہ ہمارے لئے کیا حکم ہے؟
نوٹ۔طلاق نامہ بھی منسلک ہے۔
واضح ہو کہ جس طرح زبان سے الفاظ طلاق ادا کرنے سے طلاق واقع ہوجاتی ہے، اسی طرح اگر کوئی شخص بغیر کسی جبر واکراہ کےآزادانہ طور پر محض خاندانی دباؤ میں آکریہ جانتے ہوئے کہ یہ طلاق نامہ ہے، طلاق نامہ پر دستخط کردے تو اس سے طلاق نامہ میں درج طلاقیں( خواہ ایک ہو یا تین)واقع ہوجاتی ہیں،لہذا صورتِ مسئولہ میں جب سائل نے خاندانی دباؤ اور قطع تعلق کے خوف سے خود طلاق نامہ بنوایا ،اور اس پر دستخط بھی کردیے،تو اس سے سائل کی بیوی پر تینوں طلاقیں واقع ہوکر حرمت مغلظہ ثابت ہوچکی ہے ، جس کے بعد رجوع نہیں ہوسکتا، اور نہ ہی حلالہ شرعیہ کے بغیر دوبارہ نکاح ہوسکتاہے،لہذا دونوں پر لازم ہے کہ وہ فوراً ایک دوسرے سے علیحدگی اختیار کریں، اور میاں بیوی والے تعلقات ہرگز قائم نہ کریں، ورنہ دونوں سخت گناہ گار ہونگے،جبکہ سائل کی بیوی عدت کے بعد دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہوگی۔
کما جاء فی التنزیل العزیز: فَإِن طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُۥ مِنۢ بَعۡدُ حَتَّىٰ تَنكِحَ زَوۡجًا غَيۡرَهُۥ(البقرۃ،ایۃ:230)
و فی الشامیۃ: قال في الهندية: الكتابة على نوعين: مرسومة وغير مرسومة، ونعني بالمرسومة أن يكون مصدرا ومعنونا مثل ما يكتب إلى الغائب. وغير المرسومة أن لا يكون مصدرا ومعنونا، وهو على وجهين: مستبينة وغير مستبينة، فالمستبينة ما يكتب على الصحيفة والحائط والأرض على وجه يمكن فهمه وقراءته. وغير المستبينة ما يكتب على الهواء والماء وشيء لا يمكنه فهمه وقراءته. ففي غير المستبينة لا يقع الطلاق وإن نوى، وإن كانت مستبينة لكنها غير مرسومة إن نوى الطلاق وإلا لا، وإن كانت مرسومة يقع الطلاق نوى أو لم ينو ثم المرسومة لا تخلو إما أن أرسل الطلاق بأن كتب: أما بعد فأنت طالق، فكما كتب هذا يقع الطلاق وتلزمها العدة من وقت الكتابة. وإن علق طلاقها بمجيء الكتاب بأن كتب: إذا جاءك كتابي فأنت طالق فجاءها الكتاب فقرأته أو لم تقرأ يقع الطلاق كذا في الخلاصة ط(کتاب الطلاق ،مطلب فی الطلاق بالکتابۃ،ج:3،ص:246،)