السلام علیکم !
مفتی صاحب ،ہمارے گھر میں لڑائی جھگڑا ہوگیا تھا میاں بیوی کے ماں باپ کے درمیان ،تو میں شدید غصے میں آگیا، مجنوں ہوگیا اور میں اپنے آپ پر کنٹرول نہیں کرسکا ،مجھے پتہ نہیں چلا میں نے اپنی بیگم کو یہ الفاظ وائس میسج کے ذریعے کہے کہ جاؤ، مجھ پر طلاق، طلاق، طلاق،ہو ابھی یہ بات کہہ کر میں بہت پچھتا رہا ہوں، اگر مجھ پر حرام ہوگئی ہے اور اس کا کوئی حل نکلتا ہے اس کا حل نکال دیں ۔ پچھلے ڈیڑھ سال سے میں پاکستان نہیں گیا، میری بیگم اسی گھر میں رہتی ہے۔ اگر دوبارہ نکاح ہو سکتا ہے تو میں اپنی بیگم سے دوبارہ نکاح کرنا چاہتا ہوں کیونکہ میں اپنی بیگم اور اپنے بچوں کے بغیر نہیں رہ سکتا۔ اس کے لیے خرچہ بھی بھیجتا ہوں، میں صرف اللہ سے ڈرتا ہوں جس ٹائم پہ میں نے اپنی بیگم کو یہ الفاظ کہے تو وہ حالتِ حیض میں تھی ۔ میرے پاس کوئی گواہ نہیں تھا سوائے اللہ تعالیٰ کے ۔ اور میں کوئی نشہ نہیں کرتا، گٹکا کھاتا ہوں اور نسوار رکھتا ہوں، کیونکہ میں اللہ سے ڈرتا ہوں اس وجہ سے میں کہہ رہا ہوں، اگر اس بات میں کوئی غلطی ہے تو گنجائش ہو سکتی ہے۔ جزاک اللہ، مجھے قبر کے اندر جانا ہے۔
واضح ہوکہ حیض کی حالت میں طلاق دینے سے بھی شرعاً طلاق واقع ہوجاتی ہے لہذا صورت مسئولہ میں جب سائل نے اپنی بیوی کو مذکور الفاظ " مجھ پر طلاق، طلاق، طلاق ہو" بذریعہ وائس میسج کہہ دیئے اگرچہ اس وقت بیوی حیض کی حالت میں ہو تب بھی اس سے سائل کی بیوی پر تینوں طلاقیں واقع ہوکر حرمت مغلظہ ثابت ہوچکی ہے اب رجوع نہیں ہوسکتا اور نہ ہی حلالہ شرعیہ کے بغیر دوبارہ باہم عقد نکاح ہوسکتا ہے جبکہ عورت ایام عدت گزارنے کے بعد کسی دوسری جگہ نکاح کرنے میں آزاد ہے ۔
اور حلالہ شرعیہ یہ ہے کہ عورت اپنے شوہر سے علیحدگی اور عدت کے بعد بغیرکسی شرط کے کسی دوسرے مسلمان شخص سے اپناعقد نکاح کرے ،ایساکرنے سے وہ اس دوسرے شخص کی بیوی بن جائے گی، اب اگروہ دوسراشخص بھی ایک مرتبہ ہمبستری (جوکہ حلالہ شرعیہ کے تحقق کے لئے ضروری ہے)کے فوراً بعد یا ازدواجی زندگی کے کچھ عرصہ بعد طلاق دیدے یا طلاق تو نہ دے مگر بیوی سے پہلے اس کا انتقال ہوجائے۔بہرصورت اس کی عدت گزرنے کے بعد وہ پہلے شوہر کے عقدنکاح میں آناچاہے اور پہلاشوہربھی اسے رکھنے پر رضامندہوتو نئے مہرکیساتھ گواہوں کی موجودگی دوبارہ عقدنکاح کرکے باہم میاں بیوی کی حیثیت سے زندگی بسرکرسکتے ہیں۔تاہم حلالہ اس شرط کے ساتھ کرناکہ زوج ثانی ہمبستری کے بعدبیوی کو طلاق دےگاتاکہ زوج اول دوبارہ اس کے ساتھ عقدنکاح کرےیہ مکروہ تحریمی ہے،اور اس پر حدیث شریف میں وعید بھی وارد ہوئی ہے،اس لئے اس سے احتراز لازم ہے۔جبکہ بلاشرط بلاشبہ جائز اور درست ہے۔
قال اللّٰہ تعالیٰ : اَلطَّلاَقُ مَرَّتٰنِ (الہ قولہ) فَإِنْ طَلَّقَہَا فَلاَ تَحِلُّ لَہٗ مِنْ بَعْد حَتّٰی تَنْکِحَ زَوْجًا غَیْرَہٗ الایۃ(البقرۃ آیت : 229،230)
وقال اللیث عن نافع کان ابن عمر إذا سئل عمن طلق ثلاثا قال: قال لوطلقت مرۃ أو مرتین فإن النبي صلی اﷲ علیہ وسلم أمرني بہذا فإن طلقہا ثلاثا حرمت حتی تنکح زوجا غیرہ۔ (بخاري شریف، کتاب الطلاق ج:2,ص:292)
وفی تنویرالابصار:ویقع طلاق کل زوج بالغ عاقل ولوعبدااومکرھا اوھازلا اوسفیھا او سکرانا اھ(ج:3،ص:235)
وفی الھدایۃ:وان کان الطلاق ثلاثافی الحرۃ واثنتین فی الامۃ لم تحل لہ حتی تنکح زوجاغیرہ نکاحا صحیحاً ویدخل بھا ثم یطلقھا اویموت عنھا اھ(ج:2،ص:399)