کیا فرماتےہیں علماء کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ میں .....کی شادی مورخہ 2025/06/20 کو ہوئی ،اور اس شادی سے ہماری کوئی اولاد نہیں ہوئی ،کچھ عرصہ کے بعد دونوں فریقین کے درمیان ہم آہنگی نہ ہونے کی وجہ سے اختلافات بڑھ گئے ،اور مصالحت کی کوششیں ناکام ہوگئی ،لہذا میں نے سوچ وبچار کے بعد یہ فیصلہ کیا ہے کہ فریق دوم کو طلاق ثلاثہ دیکر حق زوجیت سے الگ کردوں ،چنانچہ مؤرخہ2026/06/23کو اپنی بیوی کو مذکور الفاظ " میں ....اپنی زوجہ مسماۃ ......کو طلاق دیتا ہوں"تین مرتبہ بول کر طلاق ثلاثہ دے دی ہے،لہذا قرآن وسنت کی روشنی میں مسئلے کی وضاحت فرمائیں۔
نوٹ: طلاق نامہ بھی ساتھ لف ہے۔
صورت مسؤ لہ میں جب سائل نے اپنی بیوی کو بمؤرخہ2026/06/23کو مذکور الفاظ " میں.....اپنی زوجہ مسماۃ .....کو طلاق دیتا ہوں “ تین مرتبہ بول کر،اور طلاق نامے پرلکھ کر دستخط کر دیے ،تو اس سے سائل کی بیوی پر تینوں طلاقیں واقع ہوکر حرمتِ مغلظہ ثابت ہوچکی ہے،اب رجوع نہیں ہوسکتا ،اور حلالۂ شرعیہ کے بغیر دوبارہ باہم عقد نکاح بھی نہیں ہوسکتا ،لہذا دونوں پر لازم ہے کہ فوراً ایک دوسرے سے علیحدگی اختیار کریں ،اور میاں بیوی والے تعلقات ہرگز قائم نہ کریں ، ورنہ دونوں سخت گناہ گار ہوں گے ،جبکہ عورت ایامِ ِعدت کے بعد دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہے ۔
قال اللہ تعالیٰ: قال اللہ تعالی: فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ الایة(سورۃ البقرہ:آیت نمبر:230)۔
و في الهداية شرح البداية: وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة أو ثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها والأصل فيه قوله تعالى { فإن طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره } فالمراد الطلقة الثالثة اھـ (ج :2ص 10/الناشر المكتبة الإسلامية)۔
و في الفتاوى الهندية: وإذا قال لامرأته أنت طالق وطالق وطالق ولم يعلقه بالشرط إن كانت مدخولة طلقت ثلاثا اھ (ج1/ص 355/ الناشر دار الفكر)۔