گزارش ہے کہ مورخہ 2023۔12۔29 کو میرا نکاح مسماۃ ...!....سے میرا نکاح ہوا اور رخصتی /شادی مورخہ 2024 ۔11۔4 کو ہوئی تھی ،میری بیگم مسماۃ......کے بطن سے ابھی تک کوئی اولاد نہیں ہوئی ہے ، ہم دونوں میاں بیوی اپنی ہنسی خوشی سے ازدواجی زندگی گزار رہے تھے ،پھر اگست 2025 کے آخر ی دنوں میں مجھے میری بیگم مسماۃ .....نے کہا کہ میں اپنے میکے /والدین کے گھر کراچی ملنے جانا چاہتی ہوں جس پر میں نے کہا کہ ٹھیک ہے کوئی بات نہیں چلتے ہیں ،پھر مورخہ 2025 ۔09۔02 کو میں اپنی بیگم مسماۃ ......چاچڑ کے ہمراہ کراچی آگئے ،پھر 6/5 دن یہاں کراچی میں رہنے کے بعد میں اپنے کاروباری مصروفیات کی وجہ سے پنجاب واپس جانے کے لئے تیار ہو ا تو میری بیگم مسماۃ..!..اور سسرال والوں نے کہا کہ آُ پ اپنی بیگم مسماۃ ......کو کچھ دنوں کے لئے یہاں رہنے دو پھر بعد میں لے جانا ،میں نے کہا ٹھیک ہے ،میں اپنے کاروبار کی وجہ سے واپس پنجاب چلا گیا مورخہ 2025۔09۔23 کو مجھے معلوم ہوا کہ میری بیگم اپنی بہن ..... اور اپنی ماں کے ساتھ کسی ......شخص کے ہمراہ پنجاب جانے کے لئے نکلی تو اغواء / غائب ہوگئی ، اس بارے میں میرے سسر جناب ....نے FIR نمبری :2025 /397 تھانہ بلوچ کالونی ،کراچی میں درج کروائی بعد ازاں مجھے معلوم ہوا کہ میری بیگم مسماۃ .... نے مورخہ 2026۔01۔06 کو نکاح کے اوپر نکاح کرلیا ہے اور کسی ..... نامی شخص سے غیر شرعی ،غیر اسلامی ،غیر قانونی نکاح کرلیا ہے ،مورخہ 2025 ۔09۔23 سے درج بالا .... نامی شخص کے ساتھ غیر قانونی ،غیر اسلامی ،غیر شرعی طریقے سے رہ رہی ہے اور پھر اس نے جھوٹا اور جعلی اور غیر شرعی ،غیر اسلامی اور غیر قانونی نکاح پر نکاح تقریباً تین ماہ چودہ دن بعد یہ اقدام کیا ہے ۔
جناب عالی ! میں حلفاً بیان کرتا ہوں کہ شادی کے دن سے لے کر آج تک میں نے اپنی بیگم مسماۃ .....کو طلاق نہیں دی اور نہ ہی اس قسم کا کبھی کوئی الفاظ کہا ہے ۔
جناب عالی ! میری بیگم مسماۃ ..... کے پاس جھوٹ پر مبنی طلاق کے بارے میں کوئی گواہ ،کوئی دن ،کوئی مہینہ ،کوئی سال ،کوئی جگہ ،کراچی یا پنجاب ،یاکوئی جگہ جہاں پر میں نے طلاق کا لفظ کہا ہو یا کوئی ثبوت ،یا یونین کونسل کا کوئی سرٹیفکیٹ یا کوئی SMS یا کوئی وٹس ایپ یا کوئی ریکارڈنگ ،یا میرے سسرال میں سے کوئی گواہ ،یا میرے خاندان میں سے کوئی گواہ یا کوئی رشتہ دار گواہ اس جھوٹی طلاق کی تائید کرتا ہو یا کسی عدالت سے خلع کی ڈگری لی ہو ،میری بیگم مسماۃ......کے پاس اس قسم کا کوئی ثبوت نہیں ہے ،اور میری بیگم مسماۃ .....نے نکاح پر نکاح کرکے حرام کیا ہے غیر شرعی /غیر اسلامی /غیر قانونی کام کیا ہے ۔
جناب عالی ! کیا کوئی عورت بغیر کسی ثبوت ،گواہ خلع وغیرہ کے بغیر ،زبانی کہہ دے کہ میرے شوہر نے مجھے طلاق دی ہے کیا وہ طلاق اسلامی احکامات کے مطابق ہوسکتی ہے ؟ قرآن و سنت کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں ۔
مفتی غیب نہیں جانتا وہ سوال کے مطابق اُصولی جواب دینے کا پابند ہوتا ہے،اور سوال کے سچ یا جھوٹ پر مبنی ہونے کی اصل ذمہ داری سائل پر عائد ہوتی ہے اس تمہید کے بعد واضح ہو کہ صورت مسئولہ میں اگر واقعۃً سائل نے اپنی بیوی کو زبانی اور تحریری کسی بھی صورت میں طلاق نہ دی ہو، اور سائل اس پر قبر و حشر کی ذمہ داری کے ساتھ قسم اٹھانے کے لیے بھی تیار ہو (جیسا کہ سوال میں مذکور ہے)، تو ایسی صورت میں سائل کی بیوی کا نکاح سائل کے ساتھ حسب سابق برقرار ہے۔جبکہ سائل کی بیوی نے اپنے منسلکہ بیان میں جو یہ دعویٰ کیا ہے کہ اسے اس کے شوہر (سائل) نے طلاق دی تھی، جس کے بعد اس نے عدت گزار کر اپنی مرضی سے مسمیٰ ..... نامی شخص سے نکاح کرلیا، چونکہ اس دعویٰ پر اس کی جانب سے کوئی شرعی گواہ یا معتبر تحریری ثبوت پیش نہیں کیا گیا اس لیے یہ دعویٰ بغیر کسی تحریری ثبوت اور گواہوں کے معتبر نہیں، اور نہ ہی محض اس دعویٰ سے اس کا نکاح سائل سے ختم ہوا ہے۔
نیز اس بنا پر پہلے نکاح کے برقرار ہوتے ہوئے سائل کی بیوی کا کسی دوسرے شخص سے نکاح کرنا شرعاً ناجائز و حرام تھا، اور ایسا نکاح شرعاً منعقد بھی نہیں ہوا۔ لہٰذا اس دوسرے شخص کے ساتھ رہنا اور میاں بیوی والے تعلقات قائم رکھنا بھی ناجائز و حرام ہے، جس کی وجہ سے وہ سخت گناہ گار ہوئی ہے۔ اس لیے اس پر لازم ہے کہ فوراً اس ناجائز تعلق کو ختم کرے اور اپنے اس عمل سے بصدقِ دل توبہ و استغفار کرے ۔
کما فی السنن الكبرى :عن نافع , عن ابن عمر , قال: " إذا ادعت المرأة الطلاق على زوجها فتناكرا , فيمينه بالله ما فعل " (ج10 ص:306 باب: اليمين في الطلاق والعتاق وغيرهما ط: دار الكتب العلمية)
وفی البسوط للسرخسی :البینۃ علی المدعی والیمین علی من أنکر (ج 16 ص: 20 ط: دار الکتب العلمیۃ بیروت)
وفی العناية شرح الهداية:( قال : وما سوى ذلك من الحقوق يقبل فيها شهادة رجلين أو رجل وامرأتين سواء كان الحق مالا أو غير مال مثل النكاح ) والطلاق والعتاق والعدة والحوالة والوقف والصلح ( والوكالة والوصية ) والهبة والإقرار والإبراء والولد والولاد والنسب ونحو ذلك .(ج 10 ص:381 کتاب الشھادۃ ط:المكتبةالفاروق)
ووفی فتح القدير : وفي كل موضع يصدق الزوج على نفي النية إنما يصدق مع اليمين لأنه أمين في الإخبار عما في ضميره والقول قول الأمين مع اليمين (ج 4 ص:73 فصل فی الطلاق قبل الدخول ط:: دار الفكر)
وفی الفتاوی الھندیۃ : لا يجوز للرجل أن يتزوج زوجة غيره وكذلك المعتدة، كذا في السراج الوهاج. (ج 1 ص: 280 القسم السادس المحرمات التي يتعلق بها حق الغير ط: دارالفکر)