اگر کوئی مرد اپنی بیوی کو ایک ہی نشست میں چھ بار طلاق دیدے تو کیا تینوں طلاقیں واقع ہو جائیں گی یا ایک ہی طلاق واقع ہوگی ؟
واضح ہو کہ قرآن و سنت کی روشنی میں ایک مجلس کی تین طلاقیں، خواہ ایک جملہ سے دی ہوں یا الگ جملوں سے دی ہوں تین طلاقیں ہی شمار ہوتی ہیں، حضراتِ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اور تابعین عظام کا بھی اس پر اتفاق ہےنیز ائمہ اربعہ کا بھی یہی مسلک ہے، اس لئے صورتِ مسئولہ میں مذکورشخص کی بیوی پر تینوں طلاقیں واقع ہوکر حرمت ِمغلظہ ثابت ہوچکی ہے اب رجوع نہیں ہوسکتا اور حلالہ شرعیہ کے بغیر دوبارہ باہم عقدِ نکاح بھی نہیں ہوسکتا چنانچہ مذکور لڑکی کو چاہیے کہ اس سے فوراً علیحدگی اختیار کرے اور اپنے آپ کو حرام کاری کیلیے پیش نہ کرے۔
كما فى القران المجيد:«{فإن طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره} [البقرة: 230)
وفی الھندیۃ: یقع طلاق کل زوج إذا کان بالغا عاقلا سواء کان حرا أو عبدا طائفا أو مکرھا کذا فی الجوھرۃ النیرۃ ( ج:1،ص:353 )
قال اللہ تعالیٰ: ﴿فإن طلقہا فلا تحل لہ من بعد حتی تنکح زوجًا غیرہ﴾ (البقرۃ:۲۳۰)
و في الدر المختار للعلامة الحصكفى: کتب الطلاق ان مستبینا علی نحو لوح وقع إن نوی وقیل مطلقًا ۔اھ
وفي الفتاوی الشامیة: تحت(قولہ کتب الطلاق الخ) (إلى قوله) وإن کانت مرسومۃ یقع الطلاق نوی اولم ینو۔ الخ (ج۳، ص۲۴۶) واللہ أعلم بالصواب