کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میری ازدواجی زندگی اس مرحلے پر پہنچ چکی ہے کہ میرے لیے اپنے شوہر کے ساتھ رہنا ناممکن ہوگیا ہے۔ میرے والد صاحب آٹھ مرتبہ مجھے میرے سسرال چھوڑ کر آئے، لیکن ہر مرتبہ میرے شوہر نے مجھے قبول نہیں کیا۔ وہ کوئی کام کاج نہیں کرتا، نہ ہی میرے اور بچوں کے اخراجات برداشت کرتا ہے، بلکہ مجھ سے بار بار یہ مطالبہ کرتا ہے کہ اپنے والدین کے گھر سے پیسے لاکر دوں۔ یہاں تک کہ وہ یہ بھی کہتا ہے کہ: "چاہے والدین کے گھر سے لاؤ یا اپنا جسم بیچ کر لاؤ، مجھے ہر صورت پیسہ چاہیے۔"
اسی وجہ سے گزشتہ آٹھ سال سے میں اپنے والدین کے گھر مقیم ہوں، اور اس تمام عرصے میں میرا اور میرے بچوں کا خرچہ میرے والد صاحب برداشت کر رہے ہیں۔ میرے گھر والوں نے کئی مرتبہ مجھے شوہر کے گھر بھی بھیجا، لیکن وہ ہر بار یہی کہہ کر واپس بھیج دیتا ہے کہ "پیسہ نہیں ہے، وہاں سے خرچہ لے کر آؤ۔"
شوہر کے اس طرزِ عمل کی وجہ سے میری زندگی انتہائی تنگ ہوچکی ہے، یہاں تک کہ میں خودکشی پر آمادہ ہوچکی ہوں۔ اب میں اپنے شوہر کے پاس جانے کے لیے تیار نہیں ہوں اور اس سے طلاق چاہتی ہوں۔ اس صورتِ حال میں شریعتِ مطہرہ کی رو سے میری رہنمائی فرمائیں۔
مفتی غیب نہیں جانتاوہ سوال کے مطابق جواب دینے کاپابندہوتاہے ،سوال کے سچ یاجھوٹ پرمبنی ہونے کی ذمہ داری سوال کرنے والے پرعائدہوتی ہے لہذاصورت مسئولہ میں سائلہ کا بیان اگر واقعۃً سچ اور مبنی بر حقیقت ہو ، اس میں کسی قسم کی غلط بیانی سے کام نہ لیاگیا ہو اور واقعۃً سائلہ کا شوہر اسے اپنے گھر پر رکھنے کیلئے تیار نہ ہو اور نہ ہی بیوی بچوں کا نفقہ اٹھانے کیلئے تیار ہو بلکہ الٹا بیوی سے پیسہ لانے کا مطالبہ کررہاہوتو ایسی صورت میں اولاًسائلہ کو چاہیے کہ وہ خاندان کے معتمد افراد کے ذریعے اصلاح اور صلح کی کوشش کرے،لیکن اگر اس کے باوجود شوہر اپنی روش تبدیل کرکے بیوی کے حقوق ادا کرنےپرآمادہ نہ ہو اور نہ ہی طلاق دیکربیوی کوآزادکررہاہوتاکہ وہ دوسری جگہ نکاح کرکے عفت وپاکدامنی کے ساتھ زندگی گزارسکے، تو سائلہ شوہرکو طلاق بالمال یاخلع پرراضی کرکےاس سےعلیحدگی اختیارکرسکتی ہے ،ایساکرنے سے وہ شرعاًگناہ گارنہ ہوگی لیکن اگرشوہرطلاق بالمال یاخلع پربھی راضی نہ ہوتوعدالت میں ازداواجی حقوق اور نان نفقہ کی عدم ادائیگی کوبنیادبناکر فسخ نکاح کادعوی دائرکرسکتی ہے اگروہ عدالت میں اپنامدعی ثابت کرنے میں کامیاب ہوجائے اورعدالت اس کے حق میں فسخ نکاح کافیصلہ جاری کردے توایسی صورت میں عدالتی فیصلہ کے بعدسائلہ عدت گزارکردوسری جگہ نکاح کرنے میں آزادہوگی۔
کما جاء فی التنزیل العزیز: وَإِنۡ خِفۡتُمۡ شِقَاقَ بَيۡنِهِمَا فَٱبۡعَثُواْ حَكَمٗا مِّنۡ أَهۡلِهِۦ وَحَكَمٗا مِّنۡ أَهۡلِهَآ إِن يُرِيدَآ إِصۡلَٰحٗا يُوَفِّقِ ٱللَّهُ بَيۡنَهُمَآۗ إِنَّ ٱللَّهَ كَانَ عَلِيمًا خَبِيرٗا ( النساء، آیۃ:35)
وروی البخاری بسندہ: عن ابن عباس رضي الله عنهما قال:جاءت امرأة ثابت بن قيس بن شماس إلى النبي صلى الله عليه وسلم فقالت: يا رسول الله، ما أنقم على ثابت في دين ولا خلق، إلا أني أخاف الكفر، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: (فتردين عليه حديقته). قالت: نعم، فردت عليه، وأمره ففارقها.(کتاب النکاح،باب الخلع وکیفیۃ الطلاق فیہ،ج:5،ص:2022،ط:دارابن الکثیر،رقم الحدیث: 4973)
و فی الحیلۃ الناجزہ: و فی الحیلۃ الناجزۃ: " وأما المتعنت الممتنع عن الإنفاق ففي مجموع الأمير مانصه:إن منعها نفقة الحال فلها نفقة القيام فإن لم يثبت عسره أنفق أو طلق وإلا طلق عليه.قال محشيه قوله:وإلا طلق أي طلق عليه الحاكم من غير تلوم إلي أن قال:وإن تطوع بالنفقة قريب أوأجنبي فقال ابن القاسم لها أن تفارق لأن الفراق قد وجب لها.وقال ابن عبدالرحمن لا مقال لها لأن سبب الفراق هو عدم النفقة قد انتهي وهو الذي تقضيه المدونة كما قال ابن المناصف۔"(الروایۃ الثالثۃ والعشرون،ص:159،ط:دار الاشاعت)