طلاق کی صورت میں نابالغ بچی کس کے پاس ہوگی اور اگر باپ نہ کماتا ہو تو اس صورت میں خرچہ کا کیا جاۓ گا ؟ بينوا تؤجروا
طلاق کی صورت میں نابالغ بچی کی عمر نو سال ہوجانے تک ان کی پرورش کی زیادہ حق دار اس کی ماں ہے ،بشرطیکہ اس دوران وہ بچی کے کسی غیر ذی رحم محرم سے نکاح نہ کرے نو سال کی عمر کے بعد باپ اگر چاہے تو بچی کو اپنی تحویل میں لے سکتا ہے،جبکہ بچی کی شادی ہونے تک تمام ضروری اخراجات شرعا اس کے باپ کے ذمہ ہیں ،البتہ اگر والد کمائی پر قادر نہ ہو اور نہ ہی اس کے پاس اس قدر مال ہو جس سے بچی کے ضروری اخراجات پورے کئے جاسکیں تو ایسی صورت میں معتدل اور معقول خرچہ کی دو تہائی مقدار دادا اور ایک تہائی ماں ادا کرے گی۔
وفی الھندیہ: والأم والجدة أحق بالغلام حتى يستغني وقدر بسبع سنين(الی قولہ) والأم والجدة أحق بالجارية حتى تحيض(الی قولہ) وبعدما استغنى الغلام وبلغت الجارية فالعصبة أولى يقدم الأقرب فالأقرب.(ج:1،ص:542)
وفيها ايضا:نفقة الأولاد الصغار على الأب لا يشاركه فيها أحد كذا في الجوهرة النيرة.(الفصل الرابع فی نفقۃ الاولاد، (ج:1،ص:560)