کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہمارے بھائی کا انتقال ہوگیا ہے، جس کی دو بیٹیاں عمر بالترتیب 13 اور 16 سال ہیں ، ہمارے مرحوم بھائی نے اپنی بیوی کو بہت پہلے ہی طلاق دیدی تھی ، اب وہ مطالبہ کررہی ہے کہ دونوں بیٹیاں میرے حوالے کرو، جبکہ لڑکیوں کی دادی ابھی حیات ہے اور اس وقت لڑکیاں چچا کے زیرِ کفالت ہیں، لہٰذا آپ رہنمائی فرمائیں کہ اب لڑکیوں کی کفالت کاحق چچا اور والدہ میں سے کس کو ہے؟ اور مرحوم کو اب سروس کی مراعات ملنی ہیں، وہ کس طرح تقسیم ہوں گی؟ جبکہ مرحوم کا ایک آٹھ سال کا بیٹا بھی ہے، وہ والدہ کے پاس ہے۔
نوٹ! سائل سے فون پر بات ہوئی تو پتہ چلا کہ مرحوم بھائی فوج میں تھا، اب انتقال کے بعد حکومت کی طرف سے مرحوم بھائی کو سروس کی مد میں مختلف مراعات ملنی ہیں، جس کے لئے مرحوم کی دو بیٹیوں اور مرحوم کی والدہ کا نام درج ہے کہ وہ مراعات انہیں ملیں گی، نیز مرحوم کی مطلقہ بیوی مرحوم کی زندگی میں کسی دوسرے شخص کے ساتھ بھاگ گئی تھی ، جس کی وجہ سے مرحوم نے اپنی بیوی کو طلاق دیدی تھی۔
واضح ہو کہ طلاق کی صورت میں لڑکے کی عمر سات سال اور لڑکی کی عمر نو سال ہونے تک ان کی پرورش کی حقدار ماں ہوتی ہے، بشرطیکہ اس دوران وہ ان بچوں کے کسی غیر ذی رحم سے نکاح نہ کرے، اگر نکا ح کرلیا تو ماں کا حق ساقط ہوجاتا ہے، اسی طرح اگر ماں فسق و فجور میں مبتلا ہو تب بھی اس کا حق ساقط ہوجاتا ہے، لہٰذا صورتِ مسئولہ میں جب لڑکے کی عمر آٹھ سال اور لڑکیوں کی عمر 13 اور 16 سال بالترتیب ہوگئیں تو اب ماں کو بچوں کی واپسی کا مطالبہ کرنا شرعاً درست نہیں ، بلکہ مذکور لڑکیاں اپنے دادا یا چچاؤں کی زیرِ کفالت رہیں گی، جبکہ حکومت کی طرف سے سائل کے مرحوم بھائی کو پنشن وغیرہ کی مد میں جو رقم ملے گی تو چونکہ یہ حکومت کی طرف سے تبرع اور احسان ہے، لہٰذا حکومت اگر مرحوم کی والدہ اور دونوں بیٹیوں کو مذکور رقم نامزد کر کے دے تو صرف وہی اس رقم کے مالک ہوں گے، مطلقہ بیوی یا بھائیوں کا اس میں شرعاً کوئی حق نہ ہوگا، البتہ مرحوم اپنی زندگی میں جس فنڈ کا مالک یا حقدار بن چکا تھا( جو متعلقہ ادارہ سے معلوم کیا جاسکتا ہے ) تو وہ مرحوم کا ترکہ شمار ہو کر تمام ورثا میں حسبِ حصصِ شرعی تقسیم ہوگا، جبکہ تقسیم کا شرعی طریقہ کار معلوم کرنے کے لئے تمام ورثا کی مکمل تفصیل لکھ کر حکمِ شرعی معلوم کرلیا جائے۔
کما فی شرح الاشباہ و النظائر: العطایا لا یورث عنہ الخ ( کتاب الفرائض، الفن الثانی ج 2 ص 495 ط: ادارۃ القرآن)۔
و فی الھندیۃ: أحق الناس بحضانة الصغير حال قيام النكاح أو بعد الفرقة الأم إلا أن تكون مرتدة أو فاجرة غير مأمونة كذا في الكافي. سواء لحقت المرتدة بدار الحرب أم لا، فإن تابت فهي أحق به كذا في البحر الرائق. وكذا لو كانت سارقة أو مغنية أو نائحة فلا حق لها ( الی قولہ) وإن لم يكن له أم تستحق الحضانة بأن كانت غير أهل للحضانة أو متزوجة بغير محرم أو ماتت فأم الأم أولى من كل واحدة، وإن علت، فإن لم يكن للأم أم فأم الأب أولى ممن سواها، وإن علت كذا في فتح القدير الخ ( الباب السادس عشر فی الحضانۃ ج 1 ص 541 ط: ماجدیۃ)۔