کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میں اپنےشوہر سے ناراض ہوکر والدہ کے گھر آئی ہوئی تھی،اس دوران شوہر کا فون آیا اور بات بحث و مباحثہ تک چلی گئی،جس میں میں نے طلاق کا مطالبہ کیا اور انہوں نے تین بار طلاق دیدی،اور الفاظ یہ بولے کہ "میں تمہیں طلاق دیتا ہوں، طلاق دیتا ہوں، طلاق دیتا ہوں"اور اس کال کو میں نے ریکارڈ پر لگادیا، جس کی ریکارڈنگ دار الافتاء کے واٹس ایپ پر موجود ہے، اس نکاح سے ہمارے دو بیٹے ہیں جس کی عمر بالترتیب 7 سال اور 5 سال ہے، اب ان بچوں کا کیا حکم ہے؟ اس میں یہ بات واضح رہے کہ شوہر چرسی ہے، بچوں پر اور مجھ پر انتہاء درجہ تشدد کرتا تھا، یہاں تک کہ اٹھا کر زمین پر گرا دیتا ہے، جس کی وجہ سے بچے جانا نہیں چاہتے، اور انہوں نے مجھے یہ بولا تھا کہ بچوں کو میں بیچ دوں گا، لہذا اس صورتِ حال کو مدنظر رکھتے ہوئے جواب عنایت فرمائیں۔
سوال میں ذکر کردہ وضاحت اگر واقعۃً درست اور مبنی برحقیقت ہو اور واقعۃً سائلہ کے شوہر نے فون پر سائلہ کو مطالبہ طلاق کے جواب میں مذکور الفاظ "میں تمہیں طلاق دیتا ہوں، طلاق دیتا ہوں، طلاق دیتا ہوں"کہہ دیے ہوں جس کا ثبوت دار الافتاء کے واٹس ایپ نمبر پر بھی موجود ہے تو اس سے سائلہ پرتینوں طلاقیں واقع ہو کر حرمتِ مغلظہ ثابت ہو چکی ہے،اب رجوع نہیں ہو سکتا اور حلالۂ شرعیہ کے بغیر دوبارہ باہم عقدِ نکاح بھی نہیں ہو سکتا ، لہذا دونوں پر لازم ہے کہ ایک دوسرے سے علیحدہ رہیں اور میاں بیوی والے تعلقات ہر گز قائم نہ کریں ، ورنہ دونوں سخت گناہ گار ہوں گے ، جبکہ سائلہ ایام عدت گزارنے کےبعد دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہے، جبکہ طلاق کی صورت میں لڑکے کی عمر سات سال مکمل ہونے تک اس کی پرورش کی حقدار ان کی ماں ہے، بشرطیکہ اس دوران وہ ان بچوں کے کسی غیر ذی محرم سے نکاح نہ کرے، ورنہ ماں کا حق ختم ہوکر نانی کو حاصل ہوگا، اگر نانی نہ ہو یا وہ پرورش کرنے سے انکار کردے تو پھر ان بچوں کی دادی کو حقِ پرورش حاصل ہوگا، البتہ مذکور مدت کے بعد اگر والد ان بچوں کو اپنی تحویل میں لینا چاہے تو لے سکتا ہے، البتہ اگر والد واقعۃً نشئی ہو اور والد کے حوالہ کرنے سے ان بچوں کے ضیاع کا خطرہ ہو تو ایسی صورت میں والد کے حوالے کرنے کے بجائے ان کے دادا یا چچاؤں کے حوالہ کیا جائے۔
کما فی الدر المختار: وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة وثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها كذا في الهداية الخ ( فصل فیما تحل بہ المطلقۃ، ج 1، ص 473، ط: ماجدیہ)۔
وفی الھندیۃ: والأم والجدة أحق بالغلام حتى يستغني وقدر بسبع سنين وقال القدوري حتى يأكل وحده ويشرب وحده ويستنجي وحده وقدره أبو بكر الرازي بتسع سنين والفتوى على الأول والأم والجدة أحق بالجارية حتى تحيض وفي نوادر هشام عن محمدرحمه الله تعالى إذا بلغت حد الشهوة فالأب أحق وهذا صحيح اھ(باب فی الحضانۃ،ج1،ص542،ط:ماجدیہ)۔