کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام مندرجہ ذیل مسئلہ کے بارے میں کہ میری بیٹی کا نکاح مسمیٰ زید کے ساتھ ہو گیا تھا ، اس نکاح سے دو (2) بچیاں ہیں ، ایک بچی کی عمر تقریباً پونے دو سال جبکہ دوسری بچی کی دو/اڑھائی مہینے ہے، دوسری بچی اپنے والد زید کے انتقال کے تقریباً بیس (20)/پچیس (25) دن کےبعد پیدا ہوئی ہے ، زید مرحوم کےوالدین زندہ ہیں جبکہ زید فوت ہوچکے ہیں ، اب معلوم یہ کرنا ہے کہ مذکورہ بچیوں کے خرچ اخراجات اور پرورش کی ذمہ داری کس کی ہے ، دادا ، دادی کی یا اپنی بیوہ والدہ کی ؟اگر بچیاں اپنی بیوہ ماں کے ساتھ رہتی ہیں تو کیا اُن کا نان نفقہ دادا کے ذمہ لازم ہے یا والدہ کے ذمہ لازم ہے ؟ اور کیا دادا بچیوں کو والدہ سے لے سکتا ہے ؟
صورتِ مسئولہ میں مذکورہ بچیوں کی عمر نو سال مکمل ہونے تک اُنکی پرورش کی حق دار اُن کی والد ہ ہے ، بشرطیکہ والدہ اس دوران بچیوں کے کسی غیر ذی رحم محرم سے نکاح نہ کرلے ، ورنہ ماں کا حقِ پرورش ختم ہو کر بچیوں کی نانی کو یہ حق منتقل ہو جائے گا، اس کے بعد خالہ پھر پھوپھی کو بالترتیب حقِ پرورش حاصل ہو گا ، البتہ مذکور مدت (نو سال) کے بعد بچیوں کا دادا اگر بچیوں کو اپنی تحویل میں لینا چاہے تو لے سکتا ہے ، جبکہ سائل کے داماد مرحوم نے اگر اپنے ترکے میں کچھ چھوڑا ہو تو اس میں سے مذکورہ بچیوں کا جو حصہ ہوگا اُسی میں سے اُنکے اخراجات پورے کیے جائیں گے ، لیکن اگر مرحوم نے اپنے ترکے میں کچھ نہ چھوڑا ہو اور مذکورہ بچیوں کا بھی کوئی مال نہ ہو اور سائل کی بیٹی کے پاس بھی مال موجود نہ ہو تو ایسی صورت میں مذکورہ بچیوں کے ضروری اخراجات مکمل طور پر بچیوں کے دادا کے ذمے لازم ہونگے۔
کما فی الدر المختار : (و الأم و الجدة) لأم ، أو لأب (أحق بها) بالصغيرة (حتى تحيض) أي تبلغ (إلی قوله) (و غيرهما أحق بها حتى تشتهى) و قدر بتسع و به يفتى۔اھ (3/ 566)۔
و فی الفتاویٰ الخانیة : رجل مات و ترك ولدا صغيرا و أبا كانت نفقة الصغير على الجد فإن كانت للصغير أم موسرة و جد موسر كانت نفقة الصغير على الجد و ألام أثلاثاً في ظاهر الرواية اعتباراً بالميراث و في رواية الحسن عن أبى حنيفة كانت نفقة الصغير على الجد كما لو كان مكان الجد أب فإن كانت الأم فقيرة كانت نفقة الصغير علی الجد و تجعل الأم كالمعدومةاھ (3/ 44)۔