میری طلاق میرے حمل کے دوران ہوئی تھی اور میرا بیٹا بھی ہوگیا ہے ، مجھے اس کو اس کے والد کو ہی دینا تھا ابھی میرے پاس ہے ، میرا سوال یہ ہے کہ مجھے اپنے بیٹے کو اس کے والد کو دینا چاہئے یا نہیں ؟
میاں بیوی کے درمیان علیحدگی کی صورت میں بچے کی عمر سات سال ہونے تک پرورش کی زیادہ حقدار شرعاً بچے کی ماں ہے بشرطیکہ وہ اس دوران بچے کے کسی غیر ذی محرم سے نکاح نہ کرے اور اس دوران بچے پر آنے والے تمام اخراجات کی ذمہ داری بچے کے والد پر لازم ہوگی ، جبکہ بچے کی عمر سات سال کو پہنچنے پر اگر والد بچے کو اپنی تحویل میں لینا چاہے ، تو اسے تحویل میں لے سکتا ہے ، تاہم اگر والدہ باہمی رضامندی سے بچے کی عمر سات سال ہونے سے پہلے اپنا حقِ پرورش چھوڑ کر بچہ والد کی تحویل میں دینا چاہے ، تو اس کا بھی اسے اختیار ہے ، شرعاً اس میں کوئی حرج نہیں ۔
کما فی الھندیۃ : أحق الناس بحضانة الصغير حال قيام النكاح أو بعد الفرقة الأم إلا أن تكون مرتدة أو فاجرة غير مأمونة كذا في الكافي. سواء لحقت المرتدة بدار الحرب أم لا، فإن تابت فهي أحق به كذا في البحر الرائق ( الی قولہ ) وإنما يبطل حق الحضانة لهؤلاء النسوة بالتزوج إذا تزوجن بأجنبي، فإن تزوجن بذي رحم محرم من الصغير كالجدة إذا كان زوجها جدا لصغير أو الأم إذا تزوجت بعم الصغير لا يبطل حقها كذا في فتاوى قاضي خان الخ۔ ( الباب السادس عشر فی الخضانۃ ج ۔ 1 ص ۔ 541 ط ۔ ماجدیہ )۔
وفی التاتارخانیۃ : ان الام احق بالغلام ما لم یبلغ سبع سنین او ثمانین سنین وفی الکافی : والفتوی علی سبع سنین الخ ( الفصل الثلاثون ج ۔ 4 ص۔ 90 ط ۔ ادارۃ القرآن)