السلام علیکم ! زید کے انتقال کے بعد زید کی بیوہ عائشہ نے دوسری شادی کرلی ، اب زید اور عائشہ کی ایک بیٹی جو کہ 3 سال کی ہے ، پوچھنا یہ تھا کہ شریعت میں اس بچی کی پرورش کا کیا حکم ہے ؟ بچی دادا ، دادی کے ساتھ رہے گی یا پھر اپنی ماں عائشہ اور سوتیلے باپ کے ساتھ رہے گی ؟ بچی کی پرورش کا اصل حقدار کون ہے ؟
صورت مسئولہ میں مسمّاۃ عائشہ نے اگر اپنی بیٹی کے کسی غیر ذی محرم سے نکاح کیا ہو تو اس سے اس کا حقِ پرورش ختم ہوچکا ہے ، چنانچہ اب اس بچی کی نانی کو یہ حقِ پرورش حاصل ہوگا ، اگر نانی نہ ہو یا وہ لینے کے لئے آمادہ نہ ہو تو پھر دادی کو یہ حقِ پرورش حاصل ہوگا ، البتہ نو سال مکمل ہونے پر بچی کا دادا اس کو اپنی تحویل میں لے سکتا ہے ۔
جبکہ مذکور بچی کے پرورش کے اخراجات اس کے اپنے حصّہ میراث سے ادا کیے جائیں گے ، لیکن اگر وہ ناکافی ہوں تو پھر ماں اور دادا پر اخراجات لازم ہوں گے ، چنانچہ ایک تہائی ماں پر اور دو تہائی دادا پر لازم ہوں گے۔
کما فی الدرالمختار: الحضانة ( تثبت للأم ) ( الی قولہ)( ولو ) ( الی قولہ) ( بعد الفرقة ) ( الی قولہ ) (ثم ) أي بعد الأم بأن ماتت، أو لم تقبل أو أسقطت حقها أو تزوجت بأجنبي (أم الأم) ( الی قولہ ) (و ) الحاضنة (يسقط حقها بنكاح غير محرمه) أي الصغير، ( الی قولہ ) ( و الأم والجدة ) لأم ، أو لأب ( أحق بها ) بالصغيرة ( حتى تحيض ) أي تبلغ في ظاهر الرواية. ( الی قولہ) ( و غيرهما أحق بها حتى تشتهى ) و قدر بتسع و به يفتى. ( و عن محمد أن الحكم في الأم والجدة كذلك ) و به يفتى لكثرة الفساد زيلعي الخ۔ ( کتاب الطلاق ، باب الحضانۃ ، ج۔۳ ص۔ ۵۵۵، ۵۶۷ ط ایم سعید )۔
و فی رد المحتار : و في الفتح : و يجبر الأب على أخذ الولد بعد استغنائه عن الأم لأن نفقته وصيانته عليه بالإجماع ( الی قولہ ) و في الخلاصة و غيرها : و إذا استغنى الغلام و بلغت الجارية فالعصبة أولى، يقدم الأقرب فالأقرب و لا حق لابن العم في حضانة الجارية الخ۔ ( کتاب الطلاق ، باب الحضانۃ ، ج۔ ۳ ص۔۵۶۶ ، ط ایم سعید )۔
و فی الخانیۃ : صغیر مات ابوہ ، و لہ ام و جد ( اب الاب ) کانت نفقتہ علیھما اثلاثا : ثلث علی الام و الثلثان علی الجد ۔ ( ج۔۱ ، ص۔۴۴۹ ، ط۔ حقانیہ )۔