السلام علیکم! جامعہ اشرفیہ لاہور سے عورتوں کی دنیاوی تعلیم کے بارے میں پوچھا تھا انہوں نے جواب دیا کہ دورِ حاضر کی ضروریات کے مطابق حدود میں رہتے ہوئے عورت تعلیم حاصل کرسکتی ہے، پوچھنا یہ تھا کہ آج کل کی ضرورت کے مطابق کتنی تعلیم جائز ہے؟
مڈل، میٹرک، ماسٹر؟ جبکہ اگر عورت مڈل بھی پڑھی ہو تو اُسے ماحول کا پتہ چل سکتاہے کہ دنیا میں کیا ہورہاہے وہ سمجھ سکتی ہے؟ اس چیز کو آپ بہتر سمجھتے ہیں۔ شکریہ! اللہ آپ کو جزائے خیر دے۔
عورت کا دنیاوی وعصری تعلیم حاصل کرنا فی نفسہ جائز اور مباح ہے بشرطیکہ پردہ شرعی کو ملحوظ رکھا جائے، اور آنے جانے کے راستے محفوظ ہوں اور مخلوط نظام تعلیم نہ ہو اور پڑھانے والی بھی خواتین یا اساتذہ ہی ہوں مگر پردہ شرعی کو ملحوظ رکھ کر پڑھائیں جبکہ دنیاوی تعلیم میں ضرورت کو دیکھا جاتاہے شرعاً اس کی کوئی متعین حد نہیں۔
کما فی الدر: واعلم أن تعلم العلم یکون فرض عین وہو بقدر ما یحتاج لدینہ (إلی قولہ) وحرامًا وھو الفلسفۃ الخ.
وفی الشامیۃ: تحت (قولہ والفلسفۃ)۔۔۔۔ وذکر فی الاحیاء انہا لیست علما برأسہا بل ہی أربعۃ اجزاء أحدہا الہندسۃ والحساب: وہما مباحان، ولایمنع منہما إلا من یخاف علیہ أن یتجاوز ہما إلی علوم مذمومۃ الخ (ج: ۱ ص: ۴۲)
وفیہ ایضًا: وفی البزازیۃ، طلب العلم والفقہ اذا صحت النیۃ أفضل من جمیع أعمال البر وکذا الاشتغال بزیادہ العلم إن صحت النیۃ لأنہ أہم نفعًا لکن بشرط أن لا یدخل النقصان فی فرائضہ الخ. (ج: ۶ ص۴۰۷) واللہ اعلم